الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب : اتخاذ الجمة والذوائب
باب: کان کی لو سے بال نیچے رکھنے اور چوٹیاں رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3633
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ ابْنِ إِسْحَاق , عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كُنْتُ أَفْرِقُ خَلْفَ يَافُوخِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ أَسْدِلُ نَاصِيَتَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر چندیا کے پچھلے حصے میں مانگ نکالتی تھی اور سامنے کے بال پیشانی پر لٹکتے چھوڑ دیتی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3633]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16177 ألف)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الترجل 10 (4189)، مسند احمد (6/90، 275) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3633 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3633
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
ممکن ہے یہ اس دور کی بات ہو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر کے اگلے حصے کے بال کھلے چھوڑتے تھے۔
فوائد ومسائل:
ممکن ہے یہ اس دور کی بات ہو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر کے اگلے حصے کے بال کھلے چھوڑتے تھے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3633]
عباد بن عبد الله القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق