سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب : اسم الله الأعظم
باب: اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3859
حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّقِّيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ الْفَزَارِيِّ , عَنْ أَبِي شَيْبَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ الْجُهَنِيِّ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الطَّاهِرِ الطَّيِّبِ الْمُبَارَكِ الْأَحَبِّ إِلَيْكَ الَّذِي , إِذَا دُعِيتَ بِهِ أَجَبْتَ , وَإِذَا سُئِلْتَ بِهِ أَعْطَيْتَ , وَإِذَا اسْتُرْحِمْتَ بِهِ رَحِمْتَ , وَإِذَا اسْتُفْرِجَتَ بِهِ فَرَّجْتَ" , قَالَتْ: وَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ:" يَا عَائِشَةُ , هَلْ عَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ دَلَّنِي عَلَى الِاسْمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَعَلِّمْنِيهِ , قَالَ:" إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لَكِ يَا عَائِشَةُ" , قَالَتْ: فَتَنَحَّيْتُ وَجَلَسْتُ سَاعَةً , ثُمَّ قُمْتُ فَقَبَّلْتُ رَأْسَهُ , ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , عَلِّمْنِيهِ , قَالَ:" إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لَكِ يَا عَائِشَةُ أَنْ أُعَلِّمَكِ , إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لَكِ أَنْ تَسْأَلِينَ بِهِ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا" , قَالَتْ: فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ , ثُمَّ صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَدْعُوكَ اللَّهَ , وَأَدْعُوكَ الرَّحْمَنَ , وَأَدْعُوكَ الْبَرَّ , الرَّحِيمَ , وَأَدْعُوكَ بِأَسْمَائِكَ الْحُسْنَى كُلِّهَا مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ , أَنْ تَغْفِرَ لِي , وَتَرْحَمَنِي , قَالَتْ: فَاسْتَضْحَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ قَالَ:" إِنَّهُ لَفِي الْأَسْمَاءِ الَّتِي دَعَوْتِ بِهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ہے: «اللهم إني أسألك باسمك الطاهر الطيب المبارك الأحب إليك الذي إذا دعيت به أجبت وإذا سئلت به أعطيت وإذا استرحمت به رحمت وإذا استفرجت به فرجت» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرے اس پاکیزہ، مبارک اچھے نام کے واسطہ سے دعا کرتا ہوں جو تجھے زیادہ پسند ہے کہ جب اس کے ذریعہ تجھ سے دعا کی جاتی ہے، تو تو قبول فرماتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ تجھ سے سوال کیا جاتا ہے تو تو عطا کرتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ تجھ سے رحم طلب کی جائے تو تو رحم فرماتا ہے، اور جب مصیبت کو دور کرنے کی دعا کی جاتی ہے تو مصیبت اور تنگی کو دور کرتا ہے“، اور ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! کیا تم جانتی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا وہ نام بتایا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ دعا کی جائے تو وہ اسے قبول کرے گا“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے بھی وہ نام بتا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! یہ تمہارے لیے مناسب نہیں“، میں یہ سن کر علیحدہ ہو گئی اور کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی، پھر میں نے اٹھ کر آپ کے سر مبارک کو چوما، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! تمہارے لیے مناسب نہیں کہ میں تمہیں بتاؤں، اور تمہارے لیے اس اسم اعظم کے واسطہ سے دنیا کی کوئی چیز طلب کرنی مناسب نہیں، یہ سن کر میں اٹھی، وضو کیا، پھر میں نے دو رکعت نماز پڑھی، اس کے بعد میں نے یہ دعا مانگی: «اللهم إني أدعوك الله وأدعوك الرحمن وأدعوك البر الرحيم وأدعوك بأسمائك الحسنى كلها ما علمت منها وما لم أعلم أن تغفر لي وترحمني» ”اے اللہ! میں تجھ اللہ سے دعا کرتی ہوں، میں تجھ رحمن سے دعا کرتی ہوں، اور میں تجھ محسن و مہربان سے دعا کرتی ہوں اور میں تجھ سے تیرے تمام اسماء حسنیٰ سے دعا کرتی ہوں، جو مجھے معلوم ہوں یا نہ معلوم ہوں، یہ کہ تو مجھے بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما“، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور فرمایا: ”اسم اعظم انہی اسماء میں ہے جس کے ذریعہ تم نے دعا مانگی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3859]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الطَّاهِرِ الطَّيِّبِ الْمُبَارَكِ الْأَحَبِّ إِلَيْكَ الَّذِي إِذَا دُعِيتَ بِهِ أَجَبْتَ وَإِذَا سُئِلْتَ بِهِ أَعْطَيْتَ وَإِذَا اسْتُرْحِمْتَ بِهِ رَحِمْتَ وَإِذَا اسْتُفْرِجْتَ بِهِ فَرَّجْتَ» ”یا اللہ! میں تجھ سے تیرے اس طاہر، طیب، برکت والے اور تجھے سب سے پیارے نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جس کے وسیلے سے جب تجھ سے دعا کی جائے تو قبول فرماتا ہے، اور جب تجھ سے اس کے وسیلے سے کچھ مانگا جائے تو عطا فرماتا ہے، اور جب تجھ سے اس کے واسطے سے رحمت طلب کی جائے تو تو رحمت فرماتا ہے، اور جب تجھ سے اس کے واسطے سے پریشانی دور کرنے کی درخواست کی جائے تو تو پریشانی دور کرتا (اور مشکل کشائی فرماتا) ہے۔“ (بعد میں) ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! تجھے پتہ ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ نام بتا دیا ہے جس کے واسطے سے جب اسے پکارا جائے تو وہ قبول فرماتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! مجھے بھی سکھا دیجیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! وہ تیرے لیے مناسب نہیں۔“ انہوں نے کہا: میں کچھ دیر ایک طرف بیٹھی رہی، پھر میں اٹھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کو بوسہ دے کر عرض کیا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے سکھا دیجیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! یہ بات تمہارے لیے مناسب نہیں کہ میں تمہیں وہ سکھاؤں۔ تمہارے لیے مناسب نہیں کہ اس کے وسیلے سے دنیا کی کوئی چیز مانگو۔“ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اٹھ کر وضو کیا، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر میں نے کہا: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَدْعُوكَ اللّٰهَ وَأَدْعُوكَ الرَّحْمٰنَ وَأَدْعُوكَ الْبَرَّ الرَّحِيمَ وَأَدْعُوكَ بِأَسْمَائِكَ الْحُسْنٰى كُلِّهَا مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ أَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي» ”یا اللہ! میں تجھے اللہ کہتی ہوں، میں تجھے رحمان کے نام سے پکارتی ہوں، میں تجھے برٌ رحیم پکارتی ہوں، میں تجھے تیرے تمام بہترین ناموں کا واسطہ دیتی ہوں جو نام مجھے معلوم ہیں اور جو معلوم نہیں (ان سب ناموں کا واسطہ دے کر دعا کرتی ہوں) کہ میری مغفرت فرما دے اور مجھ پر رحمت فرما دے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوب ہنسے اور فرمایا: ”وہ انہیں ناموں میں ہے جن کے وسیلے سے تو نے دعا کی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3859]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16272، ومصباح الزجاجة: 1354) (ضعیف)» (سند میں ابوشیبہ مجہول راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو شيبة غير منسوب،وقال البوصيري: ’’ لم أر من جرحه ولا وثقه ‘‘ يعني أنه مجهول الحال وھو مذكور في التقريب (8165)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 514
إسناده ضعيف
أبو شيبة غير منسوب،وقال البوصيري: ’’ لم أر من جرحه ولا وثقه ‘‘ يعني أنه مجهول الحال وھو مذكور في التقريب (8165)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 514
الرواة الحديث:
Sunan Ibn Majah Hadith 3859 in Urdu
عبد الله بن عكيم الجهني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق