🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : اتباع سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم
باب: اتباع سنت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، قَالَ:" كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا لَمْ يَعْدُهُ وَلَمْ يُقَصِّرْ دُونَهُ".
ابو جعفر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتے تو نہ اس میں کچھ بڑھاتے، اور نہ ہی کچھ گھٹاتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 4]
حضرت ابوجعفر محمد باقر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتے، تو نہ اس میں اضافہ کرتے اور نہ کمی کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 4]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7442، ومصباح الزجاجة: 2)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/82)، سنن الدارمی/المقدمة 31 (327) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی وہ حدیث کی روایت میں حد درجہ محتاط تھے، الفاظ کی پوری پابندی کرتے تھے، اور ہوبہو اسی طرح روایت کرتے جس طرح سنتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد الباقر، أبو جعفر
Newمحمد الباقر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥محمد بن سوقة الغنوي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن سوقة الغنوي ← محمد الباقر
ثقة مرضي
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← محمد بن سوقة الغنوي
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥زكريا بن عدي التيمي، أبو يحيى
Newزكريا بن عدي التيمي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة يحفظ
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← زكريا بن عدي التيمي
ثقة حافظ
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4
اردو حاشہ:
(1) اس حدیث سے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا حدیث پر عمل اور بدعت سے اجتناب کا جذبہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ارشادات نبویہ پر حرف بحرف عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
اس میں کوتاہی کرتے نہ اس میں اپنی طرف سے اضافہ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے قدم رکھنے کی کوشش کرتے تھے کیونکہ قرآن مجید نے اس کام سے منع فرمایا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ﴾  (الحجرات: 1)
اے ایمان والو! اللہ سے اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو۔

(2) اس حدیث کا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو ارشاد مبارک سنتے تھے، اسے بعینہ اسی طرح روایت فرماتے، الفاظ میں کمی بیشی نہ کرتے۔ حدیث کو بالمعنی روایت کرنا اگرچہ جائز ہے، تاہم محدثین روایت باللفظ کو افضل قرار دیتے تھے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4]

Sunan Ibn Majah Hadith 4 in Urdu