سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب : معيشة آل محمد صلى الله عليه وسلم
باب: آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معیشت (گزر بسر) کا بیان۔
حدیث نمبر: 4146
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ , يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَلْتَوِي فِي الْيَوْمِ مِنَ الْجُوعِ , مَا يَجِدُ مِنَ الدَّقَلِ مَا يَمْلَأُ بِهِ بَطْنَهُ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ دن میں بھوک سے کروٹیں بدلتے رہتے تھے، آپ کو خراب اور ردی کھجور بھی نہ ملتی تھی جس سے اپنا پیٹ بھر لیتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4146]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزھد (2978)، سنن الترمذی/الزھد 39 (2372)، (تحفة الأشراف: 10652)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/24، 50) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نو بیبیوں میں سے سب کا یہی حال تھا کہ ایک ایک مہینے تک ان کے یہاں چولہا ٹھنڈا رہتا، کھجور پانی پر گزر بسر کرتے، کبھی پڑوسی دودھ بھیجتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دودھ پی لیتے، اللہ اللہ جو بادشاہ ہو تمام دنیا کا اور سارے زمانے کے دنیا دار بادشاہ اور رئیس اس کے غلام کے غلام ہوں وہ اس طرح سے گزارا کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي | |
👤←👥النعمان بن بشير الأنصاري، أبو عبد الله النعمان بن بشير الأنصاري ← عمر بن الخطاب العدوي | صحابي صغير | |
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة سماك بن حرب الذهلي ← النعمان بن بشير الأنصاري | صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← سماك بن حرب الذهلي | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥بشر بن عمر الزهراني، أبو محمد بشر بن عمر الزهراني ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة | |
👤←👥نصر بن علي الأزدي، أبو عمرو نصر بن علي الأزدي ← بشر بن عمر الزهراني | ثقة ثبت |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4146 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4146
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
اس میں امت کے لیے سبق ہے کہ وہ تنگ دستی کی حالت میں صبر اختیار کریں، حرام کمائی کا خیال بھی دل میں نہ لائیں۔
فوائد و مسائل:
اس میں امت کے لیے سبق ہے کہ وہ تنگ دستی کی حالت میں صبر اختیار کریں، حرام کمائی کا خیال بھی دل میں نہ لائیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4146]
النعمان بن بشير الأنصاري ← عمر بن الخطاب العدوي