سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب : صفة أمة محمد صلى الله عليه وسلم
باب: امت محمدیہ کی صفات۔
حدیث نمبر: 4285
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ , قَالَ: صَدَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِمَا مِنْ عَبْدٍ يُؤْمِنُ ثُمَّ يُسَدِّدُ , إِلَّا سُلِكَ بِهِ فِي الْجَنَّةِ , وَأَرْجُو أَلَّا يَدْخُلُوهَا حَتَّى تَبَوَّءُوا أَنْتُمْ , وَمَنْ صَلَحَ مِنْ ذَرَارِيِّكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ , وَلَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابِ".
رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، کوئی بندہ ایسا نہیں ہے، جو ایمان لائے، پھر اس پر جما رہے مگر وہ اس کی وجہ سے جنت میں داخل کیا جائے گا، اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ اس میں داخل نہ ہوں گے یہاں تک کہ تم اور تمہاری اولاد میں جو لوگ نیک ہوئے جنت کے مکانات میں ٹھکانا نہ بنا لیں، اور مجھ سے میرے رب نے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو بغیر حساب و کتاب جنت میں داخل کرے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4285]
حضرت رفاعہ (بن عرابہ) جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر سے واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، جو آدمی ایمان لائے، پھر سیدھی راہ پر قائم رہے، اسے ضرور جنت میں پہنچایا جائے گا، اور مجھے امید ہے کہ وہ لوگ (دوسری امتوں کے جنتی) اس وقت تک داخل نہیں ہوں گے جب تک تم اور تمہاری نیک اولادیں جنت کے گھروں میں نہ پہنچ جائیں اور میرے رب عزوجل نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار افراد کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کرے گا۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4285]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3611، ومصباح الزجاجة: 1534)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/16) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4285 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4285
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
امت محمدیہ کے مومن دوسری امتوں کے مومنوں سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔
(2)
جنت میں داخلے کے لئے ایمان کے ساتھ ساتھ اس کے تقاضے پورے کرنا سیدھی راہ پر قائم رہنا اور گناہوں سےبچنا بھی ضروری ہے۔
(3)
کوئی شخص اس لئے جنت میں داخلے کا مستحق نہیں ہوجاتا کہ اس کے والدین نیک ہیں۔
بلکہ خود بھی نیک ہونا ضروری ہے۔
(4)
بلند درجات والے مومن حساب کتاب کے بغیر جنت میں پہنچا دیئے جایئں گے۔
(5)
ایک حدیث میں بغیر حساب کے جنت میں جانے والے ستر ہزار مومنوں کی یہ خوبیاں کی گئی ہیں۔
وہ (آگ کے ساتھ)
داغ نہیں لگواتے، جھاڑ پھونک نہیں کرواتے، بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ (صحیح البخاري، الرقاق، باب یدخل الجنة سبعون الفا بغیر حساب، حدیث: 6541)
فوائد و مسائل:
(1)
امت محمدیہ کے مومن دوسری امتوں کے مومنوں سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔
(2)
جنت میں داخلے کے لئے ایمان کے ساتھ ساتھ اس کے تقاضے پورے کرنا سیدھی راہ پر قائم رہنا اور گناہوں سےبچنا بھی ضروری ہے۔
(3)
کوئی شخص اس لئے جنت میں داخلے کا مستحق نہیں ہوجاتا کہ اس کے والدین نیک ہیں۔
بلکہ خود بھی نیک ہونا ضروری ہے۔
(4)
بلند درجات والے مومن حساب کتاب کے بغیر جنت میں پہنچا دیئے جایئں گے۔
(5)
ایک حدیث میں بغیر حساب کے جنت میں جانے والے ستر ہزار مومنوں کی یہ خوبیاں کی گئی ہیں۔
وہ (آگ کے ساتھ)
داغ نہیں لگواتے، جھاڑ پھونک نہیں کرواتے، بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ (صحیح البخاري، الرقاق، باب یدخل الجنة سبعون الفا بغیر حساب، حدیث: 6541)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4285]
Sunan Ibn Majah Hadith 4285 in Urdu
عطاء بن يسار الهلالي ← رفاعة بن عرابة الجهني