🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب : القراءة في الظهر والعصر
باب: ظہر اور عصر کی قرات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 828
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدٌ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" اجْتَمَعَ ثَلَاثُونَ بَدْرِيًّا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: تَعَالَوْا حَتَّى نَقِيسَ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا لَمْ يَجْهَرْ فِيهِ مِنَ الصَّلَاةِ، فَمَا اخْتَلَفَ مِنْهُمْ رَجُلَانِ، فَقَاسُوا قِرَاءَتَهُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الظُّهْرِ بِقَدْرِ ثَلَاثِينَ آيَةً، وَفِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، وَقَاسُوا ذَلِكَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ النِّصْفِ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تیس بدری صحابہ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ آؤ ہم سری نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا اندازہ کریں، تو ان لوگوں نے ظہر کی پہلی رکعت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا اندازہ تیس آیت کے بہ قدر کیا، اور دوسری رکعت میں اس کے آدھا، اور عصر کی نماز میں ظہر کی پچھلی دونوں رکعتوں کے نصف کے بہ قدر، اس اندازے میں ان میں سے دو شخصوں کا بھی اختلاف نہیں ہوا ا؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 828]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (ایک بار) تیس بدری صحابہ رضی اللہ عنہم (ایک جگہ) جمع ہو گئے۔ انہوں نے (آپس میں) کہا: آیئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سری نمازوں میں قراءت (کی مقدار) کا اندازہ کریں۔ ان میں سے کسی دو میں اختلاف نہیں ہوا، (اور انہوں نے بالاتفاق فیصلہ دیا) ان کا اندازہ یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت ظہر کی پہلی رکعت میں تیس آیتوں کے برابر ہوتی تھی اور دوسری رکعت میں اس سے نصف، اور عصر کی نماز کے بارے میں ان کا اندازہ یہ تھا کہ وہ ظہر کی آخری رکعتوں سے نصف ہوتی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 828]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4324، ومصباح الزجاجة: 305)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 34 (452)، سنن ابی داود/الصلاة 130 (804)، سنن النسائی/الصلاة 16 (476)، مسند احمد (3/2)، سنن الدارمی/الصلاة 62 (1325) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں زید العمی ضعیف راوی ہیں، اور ابوداود اور طیالسی نے مسعودی سے جو مختلط روای ہیں بعد اختلاط روایت کی ہے، لیکن مرفوع حدیث دوسری سند سے صحیح مسلم میں ہے، لفظ قیاس کے بغیر جیسا کہ اوپر کی تخریج میں مذکور ہے)۔
وضاحت: ۱؎: اس باب کی احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ کبھی کبھی ایک آدھ آیت کو اس طرح پڑھنا کہ پیچھے والے سن لیں درست ہے، سری و جہری میں فرق یہی ہے کہ سری میں اتنا آہستہ پڑھنا کہ خود سنے اور پاس والا بھی، اور جہری کہتے ہیں کہ خود بھی سنے اور دوسرے بھی سنیں، سنت کی پیروی میں کبھی کبھی ایک آدھ آیت سنانا درست ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف لكن المرفوع منه له طريق آخر عند م دون لفظة القياس
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
زيد العمي: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 407

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥المنذر بن مالك العوفي، أبو نضرة
Newالمنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥زيد بن الحواري العمي، أبو الحواري
Newزيد بن الحواري العمي ← المنذر بن مالك العوفي
ضعيف الحديث
👤←👥عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي
Newعبد الرحمن بن عبد الله المسعودي ← زيد بن الحواري العمي
صدوق اختلط قبل موته وضابطه أن من سمع منه ببغداد فبعد الاختلاط
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود
Newأبو داود الطيالسي ← عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي
ثقة حافظ غلط في أحاديث
👤←👥يحيى بن حكيم المقوم، أبو سعيد
Newيحيى بن حكيم المقوم ← أبو داود الطيالسي
ثقة حافظ مصنف
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 828 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث828
اردو حاشہ:
فائده:
مذکورہ بالا روایات سنداً ضعیف ہے۔
تاہم معناً صحیح ہے کہ جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔
انھوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں تیس تیس آیات کے برابر قراءت کرتے تھے۔
اور پچھلی رکعتوں میں پندرہ آیتوں کے برابر یا فرمایا۔
اس (تیس)
سے نصف اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں پندرہ آیتوں کے برابر قراءت کرتے تھے۔
اور پچھلی دو رکعتوں میں اس سے نصف۔
دیکھئے۔ (صحیح مسلم، الصلاۃ، باب القراءۃ فی الظھر والعصر، حدیث 452)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 828]

Sunan Ibn Majah Hadith 828 in Urdu