السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. (بَابُ حُكْمِ قَصْرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ)
(دورانِ سفر نماز قصر کا حکم)
حدیث نمبر: 15
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، وَمُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ , وَغَيْرُهُمَا قَالُوا: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي عَمَّارٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهْ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة النساء آية 101 وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ! فَقَالَ عُمَرُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ , فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ , فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ".
سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے جب تم سفر میں ہو تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے۔ سورۃ النساء، آیت نمبر: 101 اب لوگ امن میں ہیں کسی دشمن کا خوف نہیں پھر قصر کیوں؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے بھی اسی بات پر تعجب کیا تھا جس پر تمہیں تعجب ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز قصر اللہ کی طرف سے تم پر صدقہ ہے لہذا تم اللہ کا صدقہ قبول کرو۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في الصلاة في السفر/حدیث: 15]
تخریج الحدیث: «صحيح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة باب صلاة المسافرين وقصرها، رقم: 686»
Sunan Shafi Hadith 15 in Urdu