السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
111. (بَابُ بَيَانِ أَوْقَاتِ الْوِتْرِ)
(وتر پڑھنے کے اوقات کا بیان)
حدیث نمبر: 173
أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لأَبِي بَكْرٍ:" مَتَى تُوتِرُ؟" فَقَالَ: قَبْلَ أَنْ أَنَامَ أَوْ قَالَ: أَوَّلَ اللَّيْلِ، وَقَالَ:" يَا عُمَرُ مَتَى تُوتِرُ؟" قَالَ: آخِرَ اللَّيْلِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلا أضْرِبُ لَكُمَا مَثَلا؟ أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَكَالَّذِي قَالَ: أَحْرَزْتُ نَهْبِي، وَابْتَغَى النَّوَافِلَ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا عُمَرُ فَتَعْمَلُ بِعَمَلِ الأَقْوِيَاءِ". قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: نَهْبِي يَعْنِي سَهْمِي.
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”آپ وتر کب پڑھتے ہیں؟“ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”سونے سے پہلے پڑھ لیتا ہوں“ یا کہا ”رات کے پہلے حصے میں پڑھتا ہوں“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”عمر رضی اللہ عنہ تم کب پڑھتے ہو؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رات کے آخری پہر“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایک مثال نہ بیان کروں؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے کہا ”میں نے اپنا حصہ بچا لیا ہے“ یعنی میں نے سونے سے پہلے جو واجب کام تھا کر دیا اگر آنکھ کھلی تو نوافل بھی پڑھ لوں گا اور اے عمر رضی اللہ عنہ یہ تو نے مضبوط لوگوں والا عمل کیا۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب من أوتر من أول الليل وآخره/حدیث: 173]
تخریج الحدیث: «مصنف عبدالرزاق: 14/3، رقم: 4616 مرسل ورجاله ثقات .»
Sunan Shafi Hadith 173 in Urdu