السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
124. (بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا)
(پھل پکنے سے پہلے بیع کی ممانعت)
حدیث نمبر: 194
وَأَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: بِعْتُ مَا فِي رُءُوسِ نَخْلِي بِمِائَةِ وَسْقٍ إِنْ زَادَ فَلَهُمْ وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيْهِمْ فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ بِالتَّمْرِ إِلا أَنَّهُ قَدْ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا".
اسماعیل شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا (اگر اس طرح فروخت ہو) کہ کھجور پر لگے پھل کو میں سو وسق کے بدلے فروخت کر دوں کہ اگر کھجور پر لگا پھل سو وسق سے زیادہ ہو گیا تو تمہارا اگر کم ہو گیا تو بھی تم ذمہ دار (کیا ایسا سودا جائز ہے؟) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کے بدلے پھل فروخت کرنے سے منع فرمایا صرف عرايا نامی بیع کی اجازت دی ہے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 194]
تخریج الحدیث: «مسند احمد: 1968، رقم: 4590، وقال الارنؤوط: اسناده حسن، مسند الحمیدی: 296/2، رقم: 673 .»
Sunan Shafi Hadith 194 in Urdu