السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
164. (بَابُ الْخِدَاعِ فِي الْبَيْعِ وَالْخِيَارِ)
(بیع میں دھوکہ اور حقِ اختیار)
حدیث نمبر: 260
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ حَبَّانَ بْنَ مُنْقِذٍ، كَانَ سُفِعَ فِي رَأْسِهِ مَأْمُومَةً فَثَقُلَ لِسَانُهُ فَكَانَ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ فَجَعَلَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا ابْتَاعَ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ فِيهِ بِالْخِيَارِ ثَلاثًا , وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُلْ: لا خِلابَةَ". قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" لا خِذَابَةَ لا خِذَابَةَ".
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے سیدنا حبان بن منقذ رضی اللہ عنہ کو سر میں چوٹ لگنے سے سوجھ بوجھ میں کچھ کمی تھی اس چوٹ سے زبان میں بھی لکنت پیدا ہو گئی تھی ان کے ساتھ سودے میں دھوکا کیا جاتا تھا تو اُن کی خرید کردہ چیز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کا اختیار مقرر کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: ”سودا کرتے ہوئے کہا کر دھوکا نہیں چلے گا۔“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے انہیں (سودا کرتے) سنا وہ کہتے تھے «لا خلابة لا خلابة» ۔ دھوکہ نہیں چلے گا، دھوکہ نہیں چلے گا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 260]
تخریج الحدیث: «مسند الحمیدی: 292/2، رقم: 662، سنن دار قطنی: 55,54/3، السنن الكبرى للبيهقي: 273/5، مسند احمد: 282/10، رقم: 6134 وقال الارنوؤط: حديث صحيح وهذا اسناده حسن، وصححه ابن الجارود، رقم: 567»
Sunan Shafi Hadith 260 in Urdu