السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
183. (باب كفارة الجماع فى الصوم)
(روزے میں ہمبستری کا شرعی کفارہ)
حدیث نمبر: 286
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ: هَلَكْتُ، قَالَ:" وَمَا أَهْلَكَكَ؟" قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا؟" قَالَ: لا قَالَ:" فَهَلْ تَسْتَطِيعُ صَوْمَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟" قَالَ: لا قَالَ:" فَهَلْ تَسْتَطِيعُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟" قَالَ: لا أَجِدُهُ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْلِسْ"، فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ كَذَلِكَ إِذْ أُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، قَالَ سُفْيَانُ: وَالْعَرَقُ الْمِكْيَالُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبْ فَتَصَدَّقْ بِهِ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ فَمَا بَيْنَ لابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا قَالَ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ قَالَ:" اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ عِيَالَكَ".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا میں ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تجھے کس چیز نے ہلاک کیا؟“ کہنے لگا روزے کی حالت میں بیوی سے ہمبستری کر لی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو غلام آزاد کرنے کی طاقت رکھتا ہے؟“ کہنے لگا نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو ماہ کے مسلسل روزوں کی استطاعت ہے؟“ کہنے لگا نہیں رکھ سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانے کی طاقت رکھتے ہو؟“ کہنے لگا نہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ“، وہ ایسے ہی بیٹھا تھا کہ ایک ٹوکری کھجوروں کی آگئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لے جا کر صدقہ کر دو“، تو کہنے لگا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، ان پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ کھجوروں کا کوئی محتاج نہیں۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنے ہنسے کہ آپ کی داڑھیں مبارک نظر آنے لگیں، پھر فرمایا: ”جا یہ ٹوکرا اپنے عیال کو کھلا دے۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في الأذان/حدیث: 286]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، کفارات الايمان، باب قوله تعالى قد فرض الله لكم الخ، رقم: 6709، صحیح مسلم، باب تغليظ تحريم الجماع في نهار ...... الخ، رقم: 1111»
Sunan Shafi Hadith 286 in Urdu