🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (648)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
229. (بَابُ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَجِيءِ مَلَكِ الْمَوْتِ)
(وفاتِ نبوی اور ملک الموت کی آمد)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 379
عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رِجَالا مِنْ قُرَيْشٍ دَخَلُوا عَلَى أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ فَقَالَ: أَلا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: بَلَى فَحَدَّثَنَا عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَرْسَلَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْكَ تَكْرِيمًا لَكَ وَتَشْرِيفًا لَكَ وَخَاصَّةً لَكَ أَسْأَلُكَ عَمَّا هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْكَ يَقُولُ: كَيْفَ تَجِدُكَ، قَالَ:" أَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَغْمُومًا وَأَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَكْرُوبًا" ثُمَّ جَاءَهُ الْيَوْمَ التَّالِي فَقَالَ ذَلِكَ لَهُ، فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا رَدَّ أَوَّلَ يَوْمٍ، ثُمَّ جَاءَهُ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ لَهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وَرَدَّ عَلَيْهِ كَمَا رَدَّ وَجَاءَ مَعَهُ مَلَكٌ يُقَالُ لَهُ: إِسْمَاعِيلُ، عَلَى مِائَةِ أَلْفِ مَلَكٍ، كُلُّ مَلَكٍ مِنْهُمْ عَلَى مِائَةِ أَلْفِ مَلَكٍ، فَاسْتَأْذَنَ فَسَأَلَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ: هَذَا مَلَكُ الْمَوْتِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ مَا اسْتَأْذَنَ عَلَى آدَمِيٍّ قَبْلَكَ وَلا يَسْتَأْذِنُ عَلَى آدَمِيٍّ بَعْدَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْذَنْ لَهُ" فَأَذِنَ لَهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ، فَإِنْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَقْبِضَ رُوحَكَ قَبَضْتُهُ، وَإِنْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَتْرُكَهُ تَرَكْتُهُ، قَالَ:" أَوَتَفْعَلُ يَا مَلَكُ الْمَوْتِ؟" قَالَ: نَعَمْ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأُمِرْتُ أَنْ أُطِيعَكَ، قَالَ: فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ فَقَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اشْتَاقَ إِلَى لِقَائِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَلَكِ الْمَوْتِ:" امْضِ لِمَا أُمِرْتَ بِهِ"، فَقَبَضَ رُوحَهُ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَتِ التَّعْزِيَةُ سَمِعُوا صَوْتًا مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ: سَلامٌ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ إِنَّ فِيَ اللَّهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ وَخَلَفًا مِنْ كُلِّ هَالِكٍ وَدَرَكًا مِنْ كُلِّ مَا فَاتَ فَبِاللَّهِ فَثِقُوا وَإِيَّاهُ فَارْجُوا فَإِنَّمَا الْمُصَابُ مَنْ حُرِمَ الثَّوَابَ. فَقَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلامُ: تَدْرُونَ مَنْ هَذَا؟ هَذَا الْخَضِرُ عَلَيْهِ السَّلامُ.
جعفر بن محمد اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ قریشی اُن کے والد علی بن حسین کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کچھ بیان نہ کروں قریشیوں نے کہا کیوں نہیں ضرور ہمیں ابو القاسم سے بیان کریں تو فرمایا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے تو اُن کے پاس جبریل علیہ السلام آئے کہنے لگے اے محمد! مجھے اللہ تعالیٰ نے آپ کی حوصلہ افزائی اور عزت بخشنے کے لیے بھیجا ہے جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے کہ آپ سے پوچھوں حالانکہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ علم ہے اللہ تعالیٰ پوچھ رہے ہیں آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جبرائیل علیہ السلام حالت غمزدہ اور تکلیف ہے (بیماری اور زہر کے اثر کی وجہ سے جو خیبر میں یہودن نے دیا تھا)۔ پھر دوسرے دن جبریل علیہ السلام آئے پھر حال پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی جواب دیا پھر تیسرے دن آئے تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی جواب دیا اس دن جبریل علیہ السلام کے ہمراہ ایک اسماعیل نامی فرشتہ بھی آیا جو ایک لاکھ فرشتہ ساتھ لایا ان میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک لاکھ فرشتہ تھا اس نے بھی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نے بھی حال احوال پوچھا پھر جبریل علیہ السلام کہنے لگے یہ ملک الموت بھی آگئے ہیں آپ سے روح قبض کرنے کے بارے میں اجازت طلب کر رہے ہیں حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی سے کبھی اجازت طلب نہیں کی اور نہ آپ کے بعد کسی آدمی سے اجازت طلب کریں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت دی اُس نے بھی سلام کیا پھر فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے کہ اگر اجازت ہوئی تو روح قبض کر لینا اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہو چھوڑ دو تو چھوڑ آنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے موت کے فرشتے کیا تو میری بات سنے گا؟ فرشتے نے کہا: ہاں مجھے یہی حکم ہے کہ آپ کی اطاعت کروں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کی طرف دیکھا جبریل علیہ السلام کہنے لگے اللہ تعالیٰ آپ کی ملاقات کے مشتاق ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک الموت سے فرمایا: حکم کی پابندی کرو۔ میری روح قبض کرو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تعزیت کی آواز صحابہ نے گھر کے کونے سے سنی کہ اے اہل بیت! تم پر سلامتی ہو اللہ کی رحمت، برکت ہو، اللہ کے لیے لواحقین سے تعزیت ہے اللہ جانے والے کا حلیف بنائے ہر کمی کو پورا کرے، اللہ پر بھروسہ رکھو اس پر امید رکھو مصیبت پر صبر کرنے سے اجر ملتا ہے۔ تو سیدنا علی نے فرمایا: جانتے ہو یہ کون تعزیت کر رہا ہے یہ خضر علیہ السلام ہیں۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في صدقة الفطر/حدیث: 379]
تخریج الحدیث: «البداية والنهايه لابن كثير: 242/5، وقال بهذا الحديث مرسل و في اسناده ضعف بحال القاسم العمری، فانه ضعفه غیر واحد من الائمة السلسلة الضعيفة للالباني: 5384 وقال فيه القاسم بن عبدالله بن عمر ضعيف كذبه الامام احمد.»


Sunan Shafi Hadith 379 in Urdu