🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (648)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
250. (بَابُ أَحْكَامِ الْفَرَعِ وَالْعَتِيرَةِ وَالْعَقِيقَةِ)
(احکامِ فرعہ، عتیرہ اور عقیقہ)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 399
وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا فَرَعَةَ وَلا عَتِيرَةَ" وَلَيْسَ هَذَا بِاخْتِلافٍ مِنَ الرِّوَايَةِ إِنَّمَا هَذَا لا فَرَعَةَ وَاجِبَةٌ وَلا عَتِيرَةَ وَاجِبَةٌ وَالْحَدِيثُ الآخَرُ يَدُلُّ عَلَى مَعْنَى ذَا أَنَّهُ أَبَاحَ لَهُ الذَّبْحَ وَاخْتَارَ لَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً أَوْ يَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. قَالَ لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَالْعَتِيرَةُ هِيَ الرَّجِبِيَّةُ وَهِيَ ذَبِيحَةٌ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَبَرَّرُونَ بِهَا فِي رَجَبَ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا عَتِيرَةَ" عَلَى مَعْنَى لا عَتِيرَةَ لازِمَةٌ وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سُئِلَ عَنِ الْعَتِيرَةِ:" اذْبَحُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ وَأَطْعِمُوا" أَيِ اذْبَحُوا إِنْ شِئْتُمْ وَاجْعَلُوا الذَّبِيحَةَ لِلَّهِ لا لِغَيْرِهِ وَفِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ لا أَنَّهَا فِي رَجَبَ دُونَ مَا سِوَاهُ مِنَ الشُّهُورِ وَقَالَ لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَالْعَقِيقَةُ مَا عَرَفَ النَّاسُ وَهُوَ ذَبْحٌ كَانَ يُذْبَحُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَنِ الْمَوْلُودِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الإِسْلامِ وَقَدْ كَرِهَ مِنْهُ الاسْمَ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان فرعہ حق ہے اس کا مطلب ہے باطل نہیں ہے (گوشت حلال ہے) لیکن یہ عربی کلام سائل کے جواب کے تناظر میں کی گئی ہے ایک روایت اس طرح بھی ہے کہ اسلام میں فرعہ یا عتیرہ نام کی کوئی چیز نہیں یہ روایات کا اختلاف (تضاد) نہیں اس سے مراد یہ ہے کہ اسلام میں فرعہ یا عتیرہ واجب نہیں جبکہ دوسری حدیث بتاتی ہے کہ (واجب تو نہیں لیکن) مباح ہے۔ مختار بات یہ ہے کہ (جوان کر کے) بیوہ کو یا فی سبیل اللہ دیا جائے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں عتیرہ ہی رجبیہ ہے یہ اس ذبیحہ کا نام ہے جس کی اہل جاہلیت رجب میں ذبح کرنے کی نذر مانتے اور پھر اس کو ماہ رجب میں پورا کرتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی عتیرہ نہیں کہ عتیرہ ضروری نہیں اور ایک حدیث میں فرمایا جب عتیرہ کے بارے میں سوال ہوا کہ کسی بھی ماہ میں اللہ کے نام پر ذبح کرو اور (فقراء کو) کھلاؤ یعنی اگر چاہو تو ذبح کر سکتے ہو لیکن ذبیحہ اللہ کے نام کا کرنا ہے غیر اللہ کے نام کا نہیں اور ماہ بھی مخصوص نہیں کرنا کیونکہ وہ لوگ بقیہ مہینوں کی بجائے ماہ رجب کو خاص کر بیٹھے تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عقیقہ تو لوگوں کے ہاں معروف چیز ہے یہ ذبیحہ نومولود کی طرف سے اہل جاہلیت کرتے تھے تو اسلام میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا، لیکن یہ نام (لغت کے اعتبار سے) مکروہ ہے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب تفسير الفرعة والعتيرة/حدیث: 399]
تخریج الحدیث: «لا فرعة ولا عتيرة حديث صحيح، متفق علیه، انظر صحیح بخاری، العقيقة، باب الفرع رقم: 5473، صحیح مسلم الاضاحی باب الفرع والعتيرة رقم: 1976.»


Sunan Shafi Hadith 399 in Urdu