السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. (بَابُ ذِكْرِ صَلَاةِ الْكُسُوفِ وَعَلَامَاتِ الْقِيَامَةِ)
(نمازِ کسوف اور علاماتِ قیامت کا ذکر)
حدیث نمبر: 53
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرْجَانِيُّ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ الْعَبْدِيِّ، قَالَ: خَطَبَنَا سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ , فَحَدَّثَنَا فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا وَشَابٌّ مِنَ الأَنْصَارِ نَنْتَضِلُ بَيْنَ غَرَضَيْنِ لَنَا , إِذِ ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ , ثُمَّ اسْوَدَّتْ حَتَّى آضَتْ كَأَنَّهَا تَنُّومَةٌ , فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ: انْطَلِقْ بِنَا , فَوَاللَّهِ لَيُحْدِثَنَّ شَأْنُ هَذِهِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَثًا فِي أَصْحَابِهِ , فَانْطَلَقْنَا , فَدَفَعْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ , وَهُوَ يَأْزَزُ , فَوَافَقْنَا خُرُوجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَصَلَّى بِنَا , فَقَامَ كَأَطْوَلِ مَا قَامَ فِي صَلاةٍ قَطُّ , لا نَسْمَعُ لَهُ حِسًّا , ثُمَّ رَكَعَ كَأَطْوَلِ مَا رَكَعَ فِي صَلاةٍ قَطُّ , لا نَسْمَعُ لَهُ حِسًّا , ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ , ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ , فَوَافَقَ فَرَاغَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلاةِ تَجَلِّي الشَّمْسِ , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا أَوْ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ , فَحَمِدَ اللَّهَ , وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ , فَإِنَّ رِجَالا يَزْعُمُونَ أَنَّ كُسُوفَ هَذِهِ الشَّمْسِ , وَكُسُوفَ هَذَا الْقَمَرِ , وَزَوَالَ هَذِهِ النُّجُومِ عَنْ مَطَالِعِهَا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ , وَقَدْ كَذَبُوا , لَيْسَ كَذَلِكَ , وَلَكِنَّهَا آيَاتٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ , لِيَنْظُرَ مَنْ يُحْدِثُ لَهُ فِيهِمْ تَوْبَةً , أَلا وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ فِي مَقَامِي هَذَا مَا أَنْتُمْ لاقُونَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ , وَلَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلاثُونَ دَجَّالا كَذَّابًا , كُلُّهُمْ يَكْذِبُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَعَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , آخِرُهُمُ الأَعْوَرُ الدَّجَّالُ , مَمْسُوخُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى , كَأَنَّهَا عَيْنُ أَبِي يَحْيَى، لِرَجُلٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَمَنْ صَدَّقَهُ وَآمَنَ لَمْ يَنْفَعْهُ صَالِحٌ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ , وَمَنْ كَذَّبَهُ وَكَفَرَ بِهِ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ".
ثعلبہ بن عباد العبدی رحمہ اللہ سے روایت ہے ہمیں سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور خطبہ میں حدیث بیان کی کہ میں اور ایک انصاری نوجوان نشانہ بازی کر رہے تھے سورج بلند ہوا پھر سیاہ ہو گیا گویا کہ تنومہ بوٹی ہو (جو سیاہی مائل ہوتی ہے) ہم نے آپس میں کہا چلو چلیں اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج کی اس کیفیت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ضرور کوئی نئی بات ارشاد فرمائیں گے ہم مسجد کی طرف آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے تشریف لائے ہم بھی اسی وقت آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جماعت کرائی اور آپ نے نہایت لمبا قیام کرایا ایسا لمبا قیام کبھی کسی بھی نماز میں نہیں کرایا تھا آپ کی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی پھر ایسا لمبا رکوع کیا جو عام نمازوں میں نہیں کرتے تھے آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی پھر کھڑے ہو کر سجدہ کیا پھر دوسری رکعت میں ایسا ہی کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے سورج صاف ہو چکا تھا پھر آپ نے خطبہ دیا یا منبر پر کھڑے ہوئے حمدوثنا کے بعد فرمایا: ” «أَمَّا بَعْدُ» ! کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شمس و قمر کا گرہن اور ستاروں کا ٹوٹنا کسی اہل ارض میں سے بڑے کی موت کے باعث ہوتا ہے، یقیناً ان کا نظریہ مبنی بر جھوٹ ہے حقیقت میں یہ اللہ کی نشانیاں ہیں اللہ دیکھتے ہیں توبہ کون کرتا ہے، میں نے اپنے اس مقام پر وہ سب دیکھا جس سے تمہارا قیامت تک پالا پڑنے والا ہے، قیامت ہرگز نہیں آئے گی حتیٰ کہ 30 دجال کذاب نکلیں گے، ہر ایک اللہ پر جھوٹ باندھے گا اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی، اُن جھوٹوں کا آخری کانا دجال، بے نور دائیں آنکھ والا ہو گا جیسے ابی یحییٰ کی آنکھ ہے یہ آدمی دوران خطبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان بیٹھا ہوا تھا۔ جس شخص نے دجال کی تصدیق کی اور اس پر ایمان لایا، اس کو گزشتہ صالح اعمال بھی نفع نہ دیں گے اور جس نے اسے جھوٹا کہا اور اس کے ساتھ کفر کیا اس کے سابقہ بد اعمال اس کا کچھ نقصان نہیں کریں گے۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في صلاة الكسوف/حدیث: 53]
تخریج الحدیث: «سنن ابی داؤد، صلاة الكسوف، باب من قال اربع ركعات، رقم: 1184 وقال الالبانی: ضعیف؛ سنن نسائی، الکسوف، باب نوع آخر، رقم: 1484.»
Sunan Shafi Hadith 53 in Urdu