🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
82. باب : هل يجوز أن تكون سجدة أطول من سجدة
باب: کیا یہ جائز ہے کہ ایک سجدہ دوسرے سجدہ سے لمبا ہو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1142
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعِشَاءِ وَهُوَ حَامِلٌ حَسَنًا أَوْ حُسَيْنًا فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ لِلصَّلَاةِ فَصَلَّى فَسَجَدَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ صَلَاتِهِ سَجْدَةً أَطَالَهَا قَالَ: أَبِي فَرَفَعْتُ رَأْسِي وَإِذَا الصَّبِيُّ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاجِدٌ فَرَجَعْتُ إِلَى سُجُودِي فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ سَجَدْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ صَلَاتِكَ سَجْدَةً أَطَلْتَهَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ أَوْ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْكَ قَالَ:" كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ وَلَكِنَّ ابْنِي ارْتَحَلَنِي فَكَرِهْتُ أَنْ أُعَجِّلَهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ".
شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشاء کی دونوں نمازوں میں سے کسی ایک نماز کے لیے نکلے، اور حسن یا حسین کو اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو انہیں (زمین پر) بٹھا دیا، پھر آپ نے نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہی، اور نماز شروع کر دی، اور اپنی نماز کے دوران آپ نے ایک سجدہ لمبا کر دیا، تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر ہے، اور آپ سجدے میں ہیں، پھر میں اپنے سجدے کی طرف دوبارہ پلٹ گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے نماز کے درمیان ایک سجدہ اتنا لمبا کر دیا کہ ہم نے سمجھا کوئی معاملہ پیش آ گیا ہے، یا آپ پر وحی نازل ہونے لگی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی، البتہ میرے بیٹے نے مجھے سواری بنا لی تھی تو مجھے ناگوار لگا کہ میں جلدی کروں یہاں تک کہ وہ اپنی خواہش پوری کر لے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1142]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، حم3/493، 6/467، (تحفة الأشراف: 4832) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥شداد بن الهاد الليثيصحابي
👤←👥عبد الله بن شداد الليثي، أبو الوليد
Newعبد الله بن شداد الليثي ← شداد بن الهاد الليثي
ثقة
👤←👥محمد بن أبي يعقوب التميمي
Newمحمد بن أبي يعقوب التميمي ← عبد الله بن شداد الليثي
ثقة
👤←👥جرير بن حازم الأزدي، أبو النضر
Newجرير بن حازم الأزدي ← محمد بن أبي يعقوب التميمي
ثقة
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← جرير بن حازم الأزدي
ثقة متقن
👤←👥عبد الرحمن بن سلام الجمحي، أبو القاسم
Newعبد الرحمن بن سلام الجمحي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1142 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1142
1142۔ اردو حاشیہ:
حادثہ مرض یا وفات سے کنایہ ہے، تبھی تو صحابی کو تشویش ہوئی اور سر اٹھا کر دیکھا۔
➋ بلاوجہ سجدے کے درمیان سر اٹھانا منع ہے مگر کوئی عذر ہو، مثلاً: پیشانی کے نیچے کوئی تکلیف دہ چیز آگئی ہو یا سر میں شدید درد محسوس ہو یا امام کی حالت دیکھنا مقصود ہو تو ضرورت کے مطابق سر اٹھایا جا سکتا ہے۔ عذر ختم ہونے پر دوبارہ سجدے میں چلا جائے۔ یہ دو سجدے نہیں بنیں گے، ایک ہی رہے گا کیونکہ نیت معتبر ہے۔
➌ بچوں کی خوشی کا اس قدر لحاظ رکھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے در یتیم ہی سے ہو سکتا ہے۔ یقیناًً ایسا فعل دگنے ثواب کا حامل ہے کہ عبادت میں بھی اضافہ ہوا اور اللہ تعالیٰ کی چھوٹی سی مخلوق کی دل جوئی بھی ہوئی۔
➍ قرابت کے اعتبار سے نواسے کو بیٹا کہنا درست ہے اگرچہ وہ وراثت کے اعتبار سے بیٹے کی طرح نہیں ہوتا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1142]