🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
65. باب : نوع آخر من الذكر بعد التشهد
باب: تشہد کے بعد ایک اور طرح کے ذکر الٰہی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1312
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ: أَحْسَنُ الْكَلَامِ كَلَامُ اللَّهِ , وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشہد کے بعد اپنی نماز میں کہتے تھے: «أحسن الكلام كلام اللہ وأحسن الهدى هدى محمد صلى اللہ عليه وسلم» سب سے عمدہ کلام اللہ کا کلام ہے، اور سب سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2618) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد الباقر، أبو جعفر
Newمحمد الباقر ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥جعفر الصادق، أبو عبد الله
Newجعفر الصادق ← محمد الباقر
صدوق فقيه إمام
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← جعفر الصادق
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص
Newعمرو بن علي الفلاس ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1312 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1312
1312۔ اردو حاشیہ: خطبۂ وعظ میں تشہد کے بعد تو یہ الفاظ بہت جچتے ہیں کیونکہ یہ وعظ کی تمہید ہیں مگر نماز کے تشہد کے بعد ان الفاظ کی مناسبت معلوم نہیں ہوتی۔ امام نسائی رحمہ اللہ کا اس حدیث سے نماز والے تشہد کے بعد اس ذکر کے پڑھنے کا استدلال کرنا محل نظر ہے۔ اس سے مراد خطبے کا تشہد (شہادتین) ہے جیسا کہ مسند احمد کی روایت سے صراحت ہوتی ہے: «کان یقول في خطبته بعد التشھد: إنَّ أحْسَنَ الحَديثِ كِتابُ اللَّهِ، وأَحْسَنَ الهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم ………» نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبے میں شہادتین کے بعد یہ الفاظ: «إنَّ أحسن الحديثِ………» پڑھا کرتے تھے۔ [مسند أحمد: 319/3] نیز یہاںالصلاة سے مراد خطبہ ہے جیسا کہ مندرجہ بالا حدیث سے ظاہر ہوا۔ اور خطبے کی صلاۃ اس لیے کہا کہ یہ اس کے مقدمات اور مبادیات میں سے ہے، جیسا کہ خطبہ جمعہ ہے۔ واللہ أعلم۔ مزید دیکھیے: [ذخیرة العقبیٰ شرح النسائي: 264/15]
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1312]