سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
90. باب : التعوذ في دبر الصلاة
باب: نماز کے بعد معوذات پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1348
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ:" كَانَ أَبِي يَقُولُ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ , وَعَذَابِ الْقَبْرِ , فَكُنْتُ أَقُولُهُنَّ , فَقَالَ أَبِي: أَيْ بُنَيَّ , عَمَّنْ أَخَذْتَ هَذَا , قُلْتُ: عَنْكَ , قَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُهُنَّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد (ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے: «اللہم إني أعوذ بك من الكفر والفقر وعذاب القبر» ”اے اللہ میں کفر سے، محتاجی سے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں“ تو میں بھی انہیں کہا کرتا تھا، تو میرے والد نے کہا: میرے بیٹے! تم نے یہ کس سے یاد کیا ہے؟ میں نے کہا: آپ سے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں نماز کے بعد کہا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1348]
حضرت مسلم بن ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میرے والد محترم ہر نماز کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ» ”اے اللہ! میں کفر، فقر اور عذابِ قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ تو میں بھی یہ کلمات کہنے لگا۔ والد محترم پوچھنے لگے: بیٹا! یہ کلمات کس سے سیکھے ہیں؟ میں نے کہا: آپ سے۔ انھوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نماز کے بعد یہ کلمات کہا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1348]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11706)، مسند احمد 5/36، 39، 44 ویأتی عند المؤلف فی الاستعاذة برقم5467 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥نفيع بن مسروح الثقفي، أبو بكرة | صحابي | |
👤←👥مسلم بن أبي بكرة الثقفي مسلم بن أبي بكرة الثقفي ← نفيع بن مسروح الثقفي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عثمان بن ميمون العدوي، أبو سلمة عثمان بن ميمون العدوي ← مسلم بن أبي بكرة الثقفي | مقبول | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← عثمان بن ميمون العدوي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص عمرو بن علي الفلاس ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1348 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1348
1348۔ اردو حاشیہ: اس روایت میں فقر کو کفرکے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ مشہور روایت ہے: «كاد الفقرُ أنْ يكونَ كفرًا» [كشف الخفاء: 108/2، حدیث: 1919] ”قریب ہے فقر کقر ہو۔“ یہ روایت ضعیف ہے لیکن فقر سے بچنے کی دعا ضرور کرنی چاہیے۔ فضیلت اس فقر کی ہے جس میں دل غنی ہو۔ اس کے باوجود فقر کی دعا درست نہیں۔ اگر فقر کی حالت ہو جائے تواللہ تعالیٰ سے فقر کا ثواب مانگا جائے اور غنیٰ کی دعا کی جائے۔ مصیبت مانگنا جائز نہیں۔ ہاں، اگر من جانب اللہ فقر آ جائے، پھر انسان دل غنی رکھے اور شکوہ شکایت سے اجتناب کرے تو اجر عظیم کا مستحق ہو گا، جیسے فقراء مہاجرین۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1348]
Sunan an-Nasa'i Hadith 1348 in Urdu
مسلم بن أبي بكرة الثقفي ← نفيع بن مسروح الثقفي