🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب : وقت الجمعة
باب: جمعہ کے وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1392
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ، قال: سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قال:" كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ، ثُمَّ نَرْجِعُ وَلَيْسَ لِلْحِيطَانِ فَيْءٌ يُسْتَظَلُّ بِهِ".
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم اس حال میں لوٹتے کہ دیواروں کا سایہ نہ ہوتا جس سے سایہ حاصل کیا جا سکے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1392]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 35 (4168)، صحیح مسلم/الجمعة 9 (860)، سنن ابی داود/الصلاة 234 (1085)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 84 (1100)، (تحفة الأشراف: 4512)، مسند احمد 4/46، 50، 54، سنن الدارمی/الصلاة 194 (1587) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی زوال ہوئے ابھی تھوڑا سا وقت گزرا ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سلمة بن الأكوع الأسلمي، أبو مسلم، أبو إياس، أبو عامرصحابي
👤←👥إياس بن سلمة الأسلمي، أبو بكر، أبو سلمة
Newإياس بن سلمة الأسلمي ← سلمة بن الأكوع الأسلمي
ثقة
👤←👥يعلى بن الحارث المحاربي، أبو حرب، أبو الحارث
Newيعلى بن الحارث المحاربي ← إياس بن سلمة الأسلمي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← يعلى بن الحارث المحاربي
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥شعيب بن يوسف النسائي، أبو عمرو، أبو عمر
Newشعيب بن يوسف النسائي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1392 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1392
1392۔ اردو حاشیہ: اس روایت سے بھی قبل از زوال جمعہ پڑھنے پر استدلال کیا جاتا ہے، حالانکہ اس روایت میں کوئی لفظ اس معنیٰ پر دلالت نہیں کرتا۔ صرف اتنا سمجھ میں آتا ہے کہ جمعہ ختم ہونے تک اتنا سایہ نہیں ہوتا تھا کہ جسم دھوپ سے بچ سکے۔ ظاہر ہے زوال کے بعد جمعہ پڑھنے سے قطعاً اتنا سایہ نہیں بنتا جو جسم کو دھوپ سے بچائے، ہاں اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ جمعہ زوال کے بعد جلدی پڑھ لیا جائے اور خطبہ لمبا نہ ہو۔ سخت گرمیوں میں کچھ تاخیر بھی کی جا سکتی ہے جیسے کہ پیچھے گزرا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1392]