علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب : الإشارة في الخطبة
باب: خطبہ جمعہ میں اشارہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1413
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُصَيْنٍ، أَنَّ بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ رَفَعَ يَدَيْهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَسَبَّهُ عُمَارَةُ بْنُ رُوَيْبَةَ الثَّقَفِيُّ، وَقال:" مَا زَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذَا، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ".
حصین سے روایت ہے کہ بشر بن مروان نے جمعہ کے دن منبر پر (خطبہ دیتے ہوئے) اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، تو اس پر عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے انہیں برا بھلا کہا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زیادہ نہیں کیا، اور انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1413]
حضرت حصین سے روایت ہے کہ بشر بن مروان نے جمعے کے دن منبر پر (جوش خطابت میں) دونوں ہاتھ اٹھائے تو حضرت عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زائد اشارہ نہیں کرتے تھے“، پھر انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کی انگشتِ شہادت سے اشارہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1413]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 13 (874)، سنن ابی داود/الصلاة 230 (1104)، سنن الترمذی/الصلاة 254 (الجمعة 19) (515)، (تحفة الأشراف: 10377)، مسند احمد 4/135، 136، 261، سنن الدارمی/الصلاة 201 (1601، 1602) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمارة بن رويبة الثقفي، أبو زهير | صحابي | |
👤←👥الحصين بن عبد الرحمن السلمي، أبو الهذيل الحصين بن عبد الرحمن السلمي ← عمارة بن رويبة الثقفي | ثقة متقن | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← الحصين بن عبد الرحمن السلمي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد محمود بن غيلان العدوي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1413 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1413
1413۔ اردو حاشیہ:
➊ جمعے کا خطبہ عبادت ہے، اس میں سنجیدگی ضروری ہے دونوں ہاتھوں کو اٹھانا سنیجدگی کے خلاف ہے، تقریر میں ایک ہاتھ یا انگلی سے اشارہ کافی ہے۔ بعض نے اس سے دوران خطبہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا مراد لیا ہے، حالانکہ بعض روایات میں خطبۂ جمعہ کے دوران میں بارش کی دعا کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ اٹھا کر اور آپ کے ساتھ سامعین کا ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا منقول ہے۔ [صحیح البخاري، الإستسقاء، حدیث: 1029] ، ہاں یہ کہا: جا سکتا ہے کہ معمول نہ بنایا جائے۔ کبھی کبھار اہم موقع پر ہاتھ اٹھا لیے جائیں تو کوئی حرج نہیں۔
➋ خلاف سنت کام کرنے والے کو روکنا چاہیے اگرچہ وہ بڑی وجاہت والا اور چودھری یا وڈیرا آدمی ہو۔ ایک مسلمان کے اوصاف میں سے ہے کہ وہ اللہ کے احکام کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہیں ڈرتا۔
➊ جمعے کا خطبہ عبادت ہے، اس میں سنجیدگی ضروری ہے دونوں ہاتھوں کو اٹھانا سنیجدگی کے خلاف ہے، تقریر میں ایک ہاتھ یا انگلی سے اشارہ کافی ہے۔ بعض نے اس سے دوران خطبہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا مراد لیا ہے، حالانکہ بعض روایات میں خطبۂ جمعہ کے دوران میں بارش کی دعا کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ اٹھا کر اور آپ کے ساتھ سامعین کا ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا منقول ہے۔ [صحیح البخاري، الإستسقاء، حدیث: 1029] ، ہاں یہ کہا: جا سکتا ہے کہ معمول نہ بنایا جائے۔ کبھی کبھار اہم موقع پر ہاتھ اٹھا لیے جائیں تو کوئی حرج نہیں۔
➋ خلاف سنت کام کرنے والے کو روکنا چاہیے اگرچہ وہ بڑی وجاہت والا اور چودھری یا وڈیرا آدمی ہو۔ ایک مسلمان کے اوصاف میں سے ہے کہ وہ اللہ کے احکام کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہیں ڈرتا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1413]
Sunan an-Nasa'i Hadith 1413 in Urdu
الحصين بن عبد الرحمن السلمي ← عمارة بن رويبة الثقفي