🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب : كيف الخطبة؟
باب: عیدین کا خطبہ کیسا ہو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1579
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ , ثُمَّ يَقُولُ:" مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ، إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ , وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ , وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا , وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ" , ثُمَّ يَقُولُ:" بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ" وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ وَعَلَا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ كَأَنَّهُ نَذِيرُ جَيْشٍ يَقُولُ: صَبَّحَكُمْ مَسَّاكُمْ , ثُمَّ قَالَ:" مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ أَوْ عَلَيَّ , وَأَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے جو اس کی شایان شان ہوتی، پھر آپ فرماتے: جسے اللہ راہ دکھائے تو کوئی اسے گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے گمراہ کر دے تو اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، اور بدترین کام نئے کام ہیں، اور ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے، پھر آپ فرماتے: میں اور قیامت دونوں اس قدر نزدیک ہیں جیسے یہ دونوں انگلیاں ایک دوسرے سے ملی ہیں، اور جب آپ قیامت کا ذکر کرتے تو آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو جاتے، اور آواز بلند ہو جاتی، اور آپ کا غصہ بڑھ جاتا جیسے آپ کسی لشکر کو ڈرا رہے ہوں، اور کہہ رہے ہوں: (ہوشیار رہو! دشمن) تم پر صبح میں حملہ کرنے والا ہے، یا شام میں، پھر آپ فرماتے: جو (مرنے کے بعد) مال چھوڑے تو وہ اس کے گھر والوں کا ہے، اور جو قرض چھوڑے یا بال بچے چھوڑ کر مرے تو وہ میری طرف یا میرے ذمہ ہیں، اور میں مومنوں کا ولی ہوں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1579]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا خطبہ یوں شروع فرماتے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرماتے جو اللہ تعالیٰ کی شانِ گرامی کے لائق ہے، پھر فرماتے: جسے اللہ تعالیٰ راہِ راست پر لے آئے، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے، اسے کوئی راہِ راست پر لانے والا نہیں۔ بلاشبہ سب سے زیادہ سچی بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ اور بدترین کام وہ ہیں جنہیں (شریعت میں) اپنی طرف سے جاری کیا گیا۔ ہر ایسا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی آگ میں لے جائے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں (انگشتِ شہادت اور ساتھ والی) کی طرح (ملا کر) بھیجا گیا ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کا ذکر فرماتے تو آپ کے رخسارِ مبارک سرخ ہو جاتے، آواز بلند ہو جاتی اور غصے کے آثار چہرے پر نمایاں ہو جاتے۔ یوں لگتا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں (یعنی اس کے حملے کی خبر دے رہے ہیں) کہ تم پر صبح حملہ کر دے گا یا شام کو۔ (پھر فرماتے:) جو شخص مال چھوڑ جائے، وہ تو اس کے رشتے داروں کو ملے گا اور جو آدمی قرض یا چھوٹے چھوٹے بچے (جن کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے) چھوڑ جائے تو وہ میرے سپرد ہوں اور ان کے اخراجات اور قرض وغیرہ کی ادائیگی میرے ذمے ہو گی کیونکہ مومنین سے میرا تعلق اور رشتہ تمام رشتوں سے قوی اور مضبوط ہے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1579]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 13 (867)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 7 (45)، مسند احمد 3/310، 311، 319، 337، 371، سنن الدارمی/المقدمة 23 (212)، (تحفة الأشراف: 2599) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جن کا کفیل کوئی نہیں ان کا کفیل میں ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد الباقر، أبو جعفر
Newمحمد الباقر ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥جعفر الصادق، أبو عبد الله
Newجعفر الصادق ← محمد الباقر
صدوق فقيه إمام
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← جعفر الصادق
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← سفيان الثوري
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥عتبة بن عبد الله اليحمدي، أبو عبد الله
Newعتبة بن عبد الله اليحمدي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1579 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1579
1579۔ اردو حاشیہ:
➊ ضروری نہیں کہ ہر خطبے میں یہی الفاظ اور مضمون ہو اور نہ یہ ممکن اور مناسب ہے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ خطبہ اس قسم کا ہونا چاہیے، یعنی اس کی ابتدا اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا سے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ بھی خطبے کا لازمی جزو ہے۔ لوگوں کو شریعت حقہ کی پابندی اور بدعات سے احتراز کی طرف توجہ دلائی جائے۔ ان کواللہ تعالیٰ اور قیامت سے ڈرایا جائے اور ضروری مسائل بیان کیے جائیںَ عنوان اور مضمون کوئی بھی ہو سکتا ہے۔
بدعت سے مراد ہر وہ کام ہے جس کی سرے سے کوئی اصل شریعت اسلامیہ میں نہ ہو اور اسے اپنی طرف سے یا کسی دوسرے مذہب والوں کی نقالی میں اسلام میں داخل کیا جائے اور اسے دین اسلام کا جزو یا کارِ ثواب خیال کیا ہے۔ یا اس کی اصل تو موجود ہو لیکن اس کے لیے ایسی کیفیت، کوئی وقت یا صورت اختراع کر لی جائے کہ جس کی شرع میں دلیل نہ ہو تو وہ بھی بدعت ہی ہو گی۔ دنیوی امور میں کوئی نئی چیز اختیار کرنا بدعت نہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا تراویح کی جماعت کو «انعمت البدعۃ» (صحیح البخاری، صلاۃ التراویح، حدیث: 2010) کہنا لغت کے لحاظ سے ہے نہ کہ شرعاً۔ اسی طرح بدعت کی تقسیم حسنہ اور سیئہ بھی غلط ہے کیونکہ ہر شرعی بدعت گمراہی ہے، ا س کا مستحسن ہونا ممکن نہیں، تاہم اگر کوئی کام اصلاً شرع میں ثابت ہو مگر وصفاً ثابت نہ ہو، مثلاً: جماعت کے بعد شرعی حکم نہ سمجھ کر محض اتفاقیہ طور پر امام صاحب سے مصافحہ کرنا یا عید کے بعد گلے ملنا وغیرہ، تو ایسے کاموں کو بدعت نہیں کہا جائے گا کیونکہ انہیں سنت سمجھ کر نہیں کیا جاتا بلکہ ایک قومی رواج کے طور پر کیا جاتا ہے جس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ بعض لوگ تشدد کرتے ہوئے یہ فرق نہیں کرتے۔
ان دو انگلیوں کی طرح مراد یہ ہے کہ میری نبوت قیامت تک جاری رہے گی۔ اب نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ کوئی اور شریعت۔ میں پہلے آگیا ہوں۔ قیامت میرے بعد آرہی ہے۔ درمیان میں کسی اور نبی کا فاصلہ نہیں۔ اگرچہ اس میں ہزاروں سال لگ جائیں۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مومنین سے تعلق تمام رشتوں سے قوی اور مضبوط ہے۔ ہر رشتہ آپ پر فدا ہے۔ آپ سے محبت ایمان کا جزو ہے۔ یہ اٹوٹ رشتہ ہے۔ دنیا کے بعد آخرت میں بھی اور ہر خوف ناک موقع پر بھی قائم رہے گا۔ رسول اور نبی ہونے کے علاوہ آپ حاکم اور امیر بھی تھے اور حاکم و امیر اپنی رعایا کاذمے دار ہوتا ہے۔ حدیث میں مذکورہ اخراجات بیت المال سے پورے کیے جائیں گے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1579]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1579 in Urdu