🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
65. باب : متى يقضي من نام عن حزبه من الليل
باب: جو شخص رات کو سو جائے اور اپنا وظیفہ نہ پڑھ سکے تو وہ کب اس کی قضاء کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1793
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ:" مَنْ فَاتَهُ حِزْبُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَقَرَأَهُ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ إِلَى صَلَاةِ الظُّهْرِ فَإِنَّهُ لَمْ يَفُتْهُ أَوْ كَأَنَّهُ أَدْرَكَهُ" , رَوَاهُ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ مَوْقُوفًا.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جس کا رات کا وظیفہ چھوٹ جائے، اور وہ سورج ڈھلنے سے لے کر نماز ظہر تک کسی بھی وقت اسے پڑھ لے، تو اس کا وظیفہ نہیں چھوٹا، یا گویا اس نے اپنا وظیفہ پا لیا۔ اسے حمید بن عبدالرحمٰن نے موقوفاً (یعنی: مقطوعا) روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1793]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص سے رات کی مقررہ (نفل) نماز رہ گئی اور اس نے زوالِ شمس سے لے کر ظہر کی نماز تک پڑھ لی تو یوں سمجھو کہ وہ نماز اس سے نہیں رہی بلکہ گویا اس نے بروقت پڑھ لی۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بیٹے حمید نے اسے موقوف بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1793]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1791 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن عبد القاري، أبو محمد
Newعبد الرحمن بن عبد القاري ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي صغير
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود
Newعبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← عبد الرحمن بن عبد القاري
ثقة ثبت عالم
👤←👥داود بن الحصين القرشي، أبو سليمان
Newداود بن الحصين القرشي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج
صدوق حسن الحديث
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← داود بن الحصين القرشي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة ثبت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1793 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1793
1793۔ اردو حاشیہ:
➊ مقصود یہ ہے کہ آئندہ روایت میں یہی الفاظ حمید کی طرف منسو ب ہیں۔ حمید تابعی ہیں اور تابعی کے قول و فعل کو مقطوع کہا جاتا ہے، گویا یہاں موقوف سے مقطوع مراد ہے۔
➋ ہمارے نسخے کے مطابق عبارت کا بظاہر وہی مفہوم ہے جو ذکر ہوا۔ ذخیرۃ العقبی شرح سنن النسائي: (178/18) کے نسخے میں حمید بن عبدالرحمٰن حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، اگر یہ اضافہ درست ہے تو پھر موقوف اپنے اصطلاحی معنی میں مستعمل ہے۔ واللہ أعلم۔
➌ ضروری نہیں نماز ہی مراد ہو بلکہ قرآن مجید یا ذکر و درود بھی مراد ہو سکتا ہے اور اس کا حکم بھی یہی ہے۔
➍ اس روایت میں زوال شمس کا لفظ کسی راوی کی غلطی ہے، طوع شمس چاہیے جیسے پہلی روایات میں ہے۔
➎ باب کے تحت ان تین رووایات میں فرق یہ ہے کہ پہلی ااور دوسری روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہے اور آخرت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اور آئندہ روایت صحابی کی بجائے تابعی (حمید) کی طرف منسوب ہے۔ پہلی کو مرفوع دوسری کو موقوف اور تیسری کو مقطوع کہتے ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1793]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1793 in Urdu