سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. باب : الاختلاف على إسماعيل بن أبي خالد
باب: اسماعیل بن ابی خالد پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 1814
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَيُّوبُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، عَنِ الْقَاسِمِ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي أُخْتِي أُمُّ حَبِيبَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ حَبِيبَهَا أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهَا , قَالَ:" مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ بَعْدَ الظُّهْرِ فَتَمَسُّ وَجْهَهُ النَّارُ أَبَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
عنبسہ بن ابی سفیان کہتے ہیں کہ میری بہن ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ ان کے محبوب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا: جو بھی مومن بندہ ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھے گا، تو جہنم کی آگ اس کے چہرے کو کبھی نہیں چھوئے گی، اگر اللہ عزوجل نے چاہا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1814]
حضرت عنبسہ بن ابوسفیان بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ اور میری ہمشیرہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میرے محبوب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جو بھی مومن شخص ظہر کے بعد چار رکعات پڑھتا ہے تو ان شاء اللہ کبھی بھی اس کے چہرے کو آگ نہیں چھوئے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1814]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 200 (428)، (تحفة الأشراف: 15861) (صحیح) (اس کے رواة ’’ہلال‘‘ اور ’’ایوب شامی‘‘ لین الحدیث ہیں، لیکن پچھلی سند سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 1814 in Urdu
محمد بن أبي سفيان القرشي ← رملة بنت أبي سفيان الأموية