سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب : الأمر بالاحتساب والصبر عند نزول المصيبة
باب: مصیبت آنے پر صبر کرنے اور اللہ سے ثواب چاہنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1871
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِيَاسٍ وَهُوَ مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ , عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ، فَقَالَ لَهُ:" أَتُحِبُّهُ؟" , فَقَالَ: أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أُحِبُّهُ، فَمَاتَ فَفَقَدَهُ فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالَ:" مَا يَسُرُّكَ أَنْ لَا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ عِنْدَهُ يَسْعَى يَفْتَحُ لَكَ".
قرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کے ساتھ اس کا بیٹا (بھی) تھا، آپ نے اس سے پوچھا: ”کیا تم اس سے محبت کرتے ہو؟“ تو اس نے جواب دیا: اللہ آپ سے ایسے ہی محبت کرے جیسے میں اس سے کرتا ہوں، پھر وہ (لڑکا) مر گیا، تو آپ نے (کچھ دنوں سے) اسے نہیں دیکھا تو اس کے بارے میں (اس کے باپ سے) پوچھا (تو انہوں نے بتایا کہ وہ مر گیا ہے) آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں اس بات سے خوشی نہیں ہو گی کہ تم جنت کے جس دروازے پر جاؤ گے (اپنے بچے) کو اس کے پاس پاؤ گے، وہ تمہارے لیے دوڑ کر دروازہ کھولنے کی کوشش کرے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1871]
حضرت قرہ مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کے ساتھ اس کا ایک بیٹا تھا۔ آپ نے اس آدمی سے فرمایا: ”کیا تو اس سے محبت کرتا ہے؟“ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ سے ویسی ہی محبت فرمائے جیسی میں اس سے رکھتا ہوں (یعنی مجھے اس سے انتہا درجے کی محبت ہے)۔ ہوا یوں کہ وہ بچہ فوت ہو گیا، آپ نے جب کئی دن اس شخص کو نہ دیکھا تو اس کے بارے میں پوچھا (آپ کو بتایا گیا تو آپ نے اسے بلایا، وہ آیا تو) آپ نے فرمایا: ”کیا تجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ تو (قیامت کے دن) جنت کے جس دروازے پر بھی جائے، وہاں اسے پائے، وہ بھاگتا ہوا تیرے لیے دروازہ کھولے؟“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1871]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11083)، مسند احمد 5/35، ویأتی عند المؤلف برقم: 2090 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥قرة بن إياس المزني، أبو معاوية | صحابي | |
👤←👥معاوية بن قرة المزني، أبو إياس معاوية بن قرة المزني ← قرة بن إياس المزني | ثقة | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← معاوية بن قرة المزني | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص عمرو بن علي الفلاس ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1871 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1871
1871۔ اردو حاشیہ: معلوم ہوتا ہے وہ بچہ نابالغ تھا۔ ایک دوسری حدیث کے مطابق نابالغ بچے پر صبر کا ثواب دخول جنت ہے کیونکہ نابالغ بچے سے پیار زیادہ ہوتا ہے، اس کی وفات کا صدمہ بھی زیادہ ہوتا ہے، نیز وہ معصوم اور بے گناہ ہونے کی وجہ سے اللہ کی رحمت کا زیادہ حق دار ہوتا ہے، اس کی سفارش رد نہیں ہو گی لیکن یہ سب کچھ تب ہے جب صبر کیا ہو اور ثواب کی نیت کی ہو۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1871]
Sunan an-Nasa'i Hadith 1871 in Urdu
معاوية بن قرة المزني ← قرة بن إياس المزني