سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب : نقض رأس الميت
باب: میت کے سر (کی چوٹی) کھولنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1884
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَيُّوبُ: سَمِعْتُ حَفْصَةَ، تَقُولُ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِيَّةَ،" أَنَّهُنَّ جَعَلْنَ رَأْسَ ابْنَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ قُلْتُ: نَقَضْنَهُ وَجَعَلْنَهُ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ".
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ان عورتوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے سر کی تین چوٹیاں بنائیں، میں نے پوچھا: اسے کھول کر انہوں نے تین چوٹیاں کر دیں، تو انہوں نے کہا: جی ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1884]
حضرت حفصہ بنت سیرین بیان کرتی ہیں کہ ہمیں حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا (آپ کے دور کی غاسلہ) نے بیان فرمایا: غسل دینے والی عورتوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے سر کی تین مینڈھیاں بنائی تھیں۔ میں نے پوچھا کہ بالوں کو کھول کر پھر تین مینڈھیاں بنائی تھیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1884]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «الجنائز 9 (1254) مطولاً، 13 (1258)، 14 (1260)، صحیح مسلم/الجنائز 12 (938)، (تحفة الأشراف: 18116) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1884 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1884
1884۔ اردو حاشیہ: احناف مینڈھیاں بنانے کے بجائے بالوں کے دو حصے کرنے کے قائل ہیں، پھر دونوں سینے پر دائیں بائیں رکھ دیے جائیں گمر احادیث میں تین منڈھیوں کا ذکر ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1884]
Sunan an-Nasa'i Hadith 1884 in Urdu
حفصة بنت سيرين الأنصارية ← أم عطية الأنصارية