سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. باب : السرعة بالجنازة
باب: جنازے کو جلد دفنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1910
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ فَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً , قَالَتْ: قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ , قَالَتْ: يَا وَيْلَهَا إِلَى أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِهَا؟! يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ، وَلَوْ سَمِعَهَا الْإِنْسَانُ لَصَعِقَ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جنازہ (چارپائی پر) رکھا جاتا ہے (اور) لوگ اسے اپنے کندھوں پہ اٹھاتے ہیں، تو اگر وہ نیکوکار ہوتا ہے تو کہتا ہے: مجھے جلدی لے چلو، مجھے جلدی لے چلو، اور اگر برا ہوتا ہے تو کہتا ہے: ہائے اس کی ہلاکت! تم اسے کہاں لے جا رہے ہو، اس کی آواز ہر چیز سنتی ہے سوائے انسان کے، اگر انسان اسے سن لے تو بیہوش ہو جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1910]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 50 (1314)، 52 (1316)، 90 (1380)، (تحفة الأشراف: 4287)، مسند احمد 3/41، 58 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥كيسان المقبري، أبو سعيد كيسان المقبري ← أبو سعيد الخدري | ثقة ثبت | |
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد سعيد بن أبي سعيد المقبري ← كيسان المقبري | ثقة | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة ثبت |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1910 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1910
1910۔ اردو حاشیہ:
➊ یہ کوئی محال بات نہیں کہ جانور اس چیز کا ادراک کر لیں جس کا انسان کو ادراک نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں میں بڑی بڑی صلاحیتیں ودیعت کر رکھی ہیں، مثلاً: کتے کی قوت شامہ (سونگھنے والی قوت) حیرت انگیز حد تک انسان سے زیادہ ہے۔ وہ کسی انسان کے خالی کپڑے سونگھ کر اس انسان تک پہنچ جاتا ہے۔ انسان میں یہ صلاحیت مفقود ہے، مثلاً: شکاری اور کھوجی کتے۔
➋ ”بے ہوش ہو جائے“ یعنی اس برے انسان (میت) کی خوف ناک آواز سن کر۔
➌ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس کی آواز زندہ لوگوں کو نہیں سناتا۔
➍ جنازہ اٹھانا مردوں کے لیے مشروع ہے، عورتیں نہیں اٹھائیں گی۔
➊ یہ کوئی محال بات نہیں کہ جانور اس چیز کا ادراک کر لیں جس کا انسان کو ادراک نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں میں بڑی بڑی صلاحیتیں ودیعت کر رکھی ہیں، مثلاً: کتے کی قوت شامہ (سونگھنے والی قوت) حیرت انگیز حد تک انسان سے زیادہ ہے۔ وہ کسی انسان کے خالی کپڑے سونگھ کر اس انسان تک پہنچ جاتا ہے۔ انسان میں یہ صلاحیت مفقود ہے، مثلاً: شکاری اور کھوجی کتے۔
➋ ”بے ہوش ہو جائے“ یعنی اس برے انسان (میت) کی خوف ناک آواز سن کر۔
➌ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس کی آواز زندہ لوگوں کو نہیں سناتا۔
➍ جنازہ اٹھانا مردوں کے لیے مشروع ہے، عورتیں نہیں اٹھائیں گی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1910]
كيسان المقبري ← أبو سعيد الخدري