🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب : الرخصة في ترك القيام
باب: کافر اور مشرک کے جنازے کے لیے نہ کھڑے ہونے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1925
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ فَقَامَ الْحَسَنُ وَلَمْ يَقُمِ ابْنُ عَبَّاسٍ , فَقَالَ الْحَسَنُ:" أَلَيْسَ قَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَعَمْ , ثُمَّ جَلَسَ".
محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ ایک جنازہ حسن بن علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرا، تو حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نہیں کھڑے ہوئے، تو حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کا جنازہ (دیکھ کر) کھڑے نہیں ہوئے تھے؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہاں، پھر بیٹھے رہنے لگے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1925]
حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرات حسن بن علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس سے ایک جنازہ گزرا۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے لیکن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کھڑے نہ ہوئے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کہنے لگے: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کے جنازے کی وجہ سے کھڑے نہیں ہوئے تھے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے مگر پھر بیٹھے بھی رہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1925]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3409)، مسند احمد 1/200، 201، 337، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1926، 1927، 1928 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یعنی پھر اس کے بعد کسی جنازے کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥الحسن بن علي الهاشمي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهاشمي ← عبد الله بن العباس القرشي
صحابي
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر
Newمحمد بن سيرين الأنصاري ← الحسن بن علي الهاشمي
ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← محمد بن سيرين الأنصاري
ثقة ثبتت حجة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة ثبت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1925 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1925
1925۔ اردو حاشیہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بات کا مطلب یہ ہے کہ پھر ایسا ہی ہوا، کوئی جنازہ گزرا مگر آپ بیٹھے رہے، کھڑے نہیں ہوئے گویا بیٹھے رہنے کا جواز بھی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1925]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1925 in Urdu