الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
82. باب : مواراة الشهيد في دمه
باب: شہید کو اس کے خون میں ہی دفن کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2004
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَتْلَى أُحُدٍ:" زَمِّلُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ، فَإِنَّهُ لَيْسَ كَلْمٌ يُكْلَمُ فِي اللَّهِ إِلَّا يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدْمَى لَوْنُهُ لَوْنُ الدَّمِ وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ".
عبداللہ بن ثعلبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کے بارے میں فرمایا: ”انہیں ان کے خون کے ساتھ کپڑوں میں لپیٹ دو کیونکہ جو بھی زخم اللہ کی راہ میں لگا ہو گا وہ قیامت کے روز بہتا ہوا آئے گا، اس کا رنگ خون کا رنگ ہو گا، اور اس کی خوشبو مشک کی خوشبو ہو گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2004]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5210)، مسند احمد 5/431 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن ثعلبة العذري، أبو محمد | له رؤية | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عبد الله بن ثعلبة العذري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري هناد بن السري التميمي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2004 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2004
اردو حاشہ:
(1) یہ بات متفق علیہ ہے کہ شہید کو غسل نہیں دیا جائے گا بلکہ اسی خون آلود حالت میں مناسب کپڑے میں کفن دے کر دفن کر دیا جائے گا تاکہ اس پر مظلومیت کے نشان باقی رہیں، نیز قیامت کے دن اس کا امتیاز قائم رہے اور سب حاضرین کے سامنے اس کی فضیلت ظاہر ہو کیونکہ قیامت کے دن ہر میت کو اس حال میں اٹھایا جائے گا جس پر وہ فوت اور دفن ہوا، البتہ احناف نے اس کے لیے چند شرطیں لگائی ہیں، مثلاًً: اس نے زخمی ہونے کے بعد نہ کچھ کھایا پیا ہو، نہ سایہ حاصل کیا ہو، نہ اس کا علاج کیا گیا ہو حتیٰ کہ نہ اس نے وصیت کی ہو مگر یہ تمام شرطیں بلا دلیل بلکہ باطل ہیں بلکہ شہادت کے ساتھ مذاق اور شہید پر ظلم ہے۔ گویا اسے دھوپ میں پیاسا رکھ کر تڑپا تڑپا کر مارا جائے یا مرنے دیا جائے۔ لطف تو یہ ہے کہ اسے بات کرنے کی بھی اجازت نہ دی جائے۔ استغفراللہ
(2) شہید کے جنازے کے بارے میں اختلاف ہے اور یہ بحث تفصیل کے ساتھ سنن نسائي احادیث: 1955 تا 1957 میں گزر چکی ہے۔
(1) یہ بات متفق علیہ ہے کہ شہید کو غسل نہیں دیا جائے گا بلکہ اسی خون آلود حالت میں مناسب کپڑے میں کفن دے کر دفن کر دیا جائے گا تاکہ اس پر مظلومیت کے نشان باقی رہیں، نیز قیامت کے دن اس کا امتیاز قائم رہے اور سب حاضرین کے سامنے اس کی فضیلت ظاہر ہو کیونکہ قیامت کے دن ہر میت کو اس حال میں اٹھایا جائے گا جس پر وہ فوت اور دفن ہوا، البتہ احناف نے اس کے لیے چند شرطیں لگائی ہیں، مثلاًً: اس نے زخمی ہونے کے بعد نہ کچھ کھایا پیا ہو، نہ سایہ حاصل کیا ہو، نہ اس کا علاج کیا گیا ہو حتیٰ کہ نہ اس نے وصیت کی ہو مگر یہ تمام شرطیں بلا دلیل بلکہ باطل ہیں بلکہ شہادت کے ساتھ مذاق اور شہید پر ظلم ہے۔ گویا اسے دھوپ میں پیاسا رکھ کر تڑپا تڑپا کر مارا جائے یا مرنے دیا جائے۔ لطف تو یہ ہے کہ اسے بات کرنے کی بھی اجازت نہ دی جائے۔ استغفراللہ
(2) شہید کے جنازے کے بارے میں اختلاف ہے اور یہ بحث تفصیل کے ساتھ سنن نسائي احادیث: 1955 تا 1957 میں گزر چکی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2004]
محمد بن شهاب الزهري ← عبد الله بن ثعلبة العذري