🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
89. باب : الساعات التي نهي عن إقبار الموتى فيهن
باب: جن اوقات میں مردوں کو دفن کرنے سے منع کیا گیا ہے ان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2016
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الْقَطَّانُ الرَّقِّيُّ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ:" خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ مَاتَ فَقُبِرَ لَيْلًا وَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ، فَزَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ إِنْسَانٌ لَيْلًا إِلَّا أَنْ يُضْطَرَّ إِلَى ذَلِكَ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب فرمایا (آپ نے اس میں) اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جو مر گیا تھا، اسے رات ہی میں دفنا دیا گیا، اور ایک گھٹیا کفن میں کفنایا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرما دیا کہ کوئی رات میں دفنایا جائے، سوائے اس کے کہ وہ اس کے لیے مجبور کر دیا جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2016]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1896 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥الحجاج بن محمد المصيصي، أبو محمد
Newالحجاج بن محمد المصيصي ← ابن جريج المكي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الرحمن بن خالد الرقي، أبو بكر
Newعبد الرحمن بن خالد الرقي ← الحجاج بن محمد المصيصي
صدوق حسن الحديث
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2016 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2016
اردو حاشہ:
(1) یہ حدیث صحیح مسلم (943) میں بھی ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت میت کو دفن کرنے پر ڈانٹا سوائے اس صورت کے کہ اس کی نماز جنازہ پڑھ لی گئی ہو۔ اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اس صحابی کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی لیکن ایسا ہونا بعید ازقیاس ہے، اس لیے شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس کے معنیٰ یہ کیے ہیں: اگر نماز جنازہ دن کے وقت پڑھ لی گئی ہو تو پھر رات کے وقت دفنانا جائز ہے کیونکہ آپ کے فرمان سوائے مجبوری کے کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ مجبوری کے وقت نماز جنازہ ترک کر دی جائے، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ مجبوری کے وقت رات کو دفن کرنا جائز ہے۔
(2) رات کے وقت نماز جنازہ جائز ہے یا نہیں؟ اس میں راجح بات یہ ہے کہ افضل تو یہی ہے کہ دن کے وقت نماز جنازہ ادا کی جائے تاکہ زیادہ لوگ شامل ہوسکیں کیونکہ یہ شرعاً مطلوب ہے، البتہ بوقت ضرورت رات کے وقت بھی نماز جنازہ ادا کی جا سکتی ہے جیسا کہ صحیح روایات سے ثابت ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2016]