🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. باب : ذكر الاختلاف على سفيان الثوري فيه
باب: اس حدیث میں سفیان ثوری پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2256
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بَاعَدَ اللَّهُ مِنْهُ جَهَنَّمَ مَسِيرَةَ مِائَةِ عَامٍ".
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس سے جہنم کو سو سال کی مسافت کی دوری پر کر دے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2256]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 9947 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عقبة بن عامر الجهني، أبو الأسود، أبو أسيد، أبو سعاد، أبو حماد، أبو عبس، أبو عامر، أبو عمروصحابي
👤←👥القاسم بن عبد الرحمن الشامي، أبو عبد الرحمن
Newالقاسم بن عبد الرحمن الشامي ← عقبة بن عامر الجهني
ثقة
👤←👥يحيى بن الحارث الغساني، أبو عمرو، أبو عمر
Newيحيى بن الحارث الغساني ← القاسم بن عبد الرحمن الشامي
ثقة
👤←👥محمد بن شعيب القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن شعيب القرشي ← يحيى بن الحارث الغساني
ثقة
👤←👥محمود بن خالد السلمي، أبو علي
Newمحمود بن خالد السلمي ← محمد بن شعيب القرشي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2256 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2256
اردو حاشہ:
(1) سو سال اس سے ماقبل تمام روایات میں ستر سال کا ذکر ہے۔ معلوم ہوتا ہے دونوں اعداد سے معین عدد مراد نہیں بلکہ کثرت مراد ہے، یعنی بہت دور فرما دے گا۔ ستر اور سو کا عدد عرف میں کثرت کے لیے عام بولا جاتا ہے۔ ان دو عددوں کو خاص کرنے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ انسانی عمر عموماً ستر کے قریب ہوتی ہے، بہت کم ہیں جو سو سال تک پہنچیں یا اس سے تجاوز کریں۔ بعض اہل علم نے یہ بھی کہا ہے کہ ممکن ہے پہلے اجر کم تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اضافہ فرما دیا، یہ بھی کوئی بعید بات نہیں۔
(2) اوپر والی روایات میں سال کو خریف کہا گیا ہے کیونکہ سال میں موسم خریف ایک ہی ہے لہٰذا کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس موسم کو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ عرب میں فصلوں اور پھلوں کے پکنے، کاٹنے اور توڑنے کا موسم تھا، اس لیے عرب لوگ سن ہجری کے رواج سے پہلے تاریخ میں خریف ہی کے حوالے دیا کرتے تھے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2256]