سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. بَابُ : ذِكْرِ وَضْعِ الصِّيَامِ عَنِ الْمُسَافِرِ، وَالاِخْتِلاَفِ، عَلَى الأَوْزَاعِيِّ فِي خَبَرِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ فِيهِ
باب: مسافر کے روزہ نہ رکھنے کا بیان اور عمرو بن امیہ رضی الله عنہ کی حدیث میں اوزاعی پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2270
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا تَنْتَظِرُ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ" , قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ , فَقَالَ:" تَعَالَ أُخْبِرْكَ عَنِ الْمُسَافِرِ، إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ، وَنِصْفَ الصَّلَاةِ".
عمرو بن امیہ ضمری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: ”اے امیہ! تم کیوں نہیں دوپہر کے کھانے کا انتظار کر لیتے“، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ تو آپ نے فرمایا: (میرے قریب) آ جاؤ۔ ”میں مسافر کے سلسلے میں تمہیں (شریعت کا حکم) بتاتا ہوں: اللہ تعالیٰ نے اس سے روزہ کی چھوٹ دے دی ہے، اور نماز آدھی کر دی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2270]
حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں (سفر سے واپسی پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو امیہ! کیا تم کھانا آنے کا انتظار نہیں کرو گے؟“ میں نے عرض کیا کہ میرا تو روزہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ادھر آؤ، میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزہ اور نصف نماز معاف کر دی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2270]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10702) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 2270 in Urdu
جعفر بن عمرو الضمري ← عمرو بن أمية الضمري