سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
60. باب : أى الصدقة أفضل
باب: کون سا صدقہ افضل ہے؟
حدیث نمبر: 2544
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ".
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین صدقہ وہ ہے جو مالداری کی پشت سے ہو (یعنی مالداری باقی رکھتے ہوئے ہو)، اور اوپر والا ہاتھ (دینے والا ہاتھ) نیچے والے ہاتھ (لینے والا ہاتھ) سے بہتر ہے، اور پہلے صدقہ انہیں دو جن کی تم کفالت کرتے ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2544]
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افضل صدقہ وہ ہے جس کے بعد غنا باقی رہے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور سب سے پہلے اس شخص کو دے جس کا تو ذمہ دار ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2544]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزکاة32 (1034)، (تحفة الأشراف: 3435)، صحیح البخاری/الزکاة18 (1427)، مسند احمد 3/402، 403، 434، سنن الدارمی/الزکاة22 (1693) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 2544 in Urdu
موسى بن طلحة القرشي ← حكيم بن حزام القرشي