علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
162. باب : ترك المنديل بعد الغسل
باب: غسل کے بعد (بدن پوچھنے کے لیے) تولیہ نہ لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 255
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اغْتَسَلَ فَأُتِيَ بِمِنْدِيلٍ فَلَمْ يَمَسَّهُ وَجَعَلَ يَقُولُ بِالْمَاءِ هَكَذَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا، تو آپ کے لیے تولیہ لایا گیا تو آپ نے اسے نہیں چھوا ۱؎ اور پانی کو ہاتھ سے پونچھ کر اس طرح جھاڑنے لگے ۲؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 255]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا اور بعد میں رومال لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہ فرمایا بلکہ پانی کو ہاتھوں کے ساتھ اس طرح جھاڑنے لگے۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 255]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 6351) (صحیح): یقول المزی: المحفوظ حدیث ابن عباس، عن میمونة (وحدیث میمونة قد تقدم برقم: 245)»
وضاحت: ۱؎: ممکن ہے آپ کو اس کی ضرورت نہ رہی ہو، یا تولیہ صاف نہ رہا ہو جس سے آپ نے بدن پوچھنے کو ناپسند کیا ہو، لہٰذا یہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت کے منافی نہیں ہے جس میں ہے: «كان للنبي رسول الله صلى الله عليه وسلم خرقة ينشف بها بعد الوضوئ» اور معاذ رضی اللہ عنہ کی روایت کے بھی منافی نہیں جس میں ہے: «رأيت رسول الله رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا توضأ مسح وجهه بطرف ثوبه» اگرچہ ان دونوں حدیثوں میں کلام ہے لیکن ایک دوسرے سے تقویت پا رہی ہیں۔ ۲؎: اس سے ہاتھ سے پانی پونچھ کر جھاڑنے کا جواز ثابت ہوا، اور جس روایت میں ہاتھ سے پانی جھاڑنے کی ممانعت آئی ہے وہ ضعیف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 255 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 255
255۔ اردو حاشیہ: ہاتھوں سے پانی جھاڑنے سے یہ ثابت ہوا کہ وضو یا غسل کے بعد پانی اعضاء پر باقی رہنا ضروری نہیں، اسے صاف کیا جا سکتا ہے، ہاتھوں سے یا رومال اور تولیے وغیرہ سے۔ بعض لوگوں نے اس روایت سے تولیے کا استعمال ناپسندیدہ قرار دیا ہے مگر یہ استدلال درست نہیں ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 255]
Sunan an-Nasa'i Hadith 255 in Urdu
كريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي