🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
81. باب : الصدقة على اليتيم
باب: یتیم کو صدقہ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2582
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي هِلَالٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَالَ:" إِنَّمَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ لَكُمْ مِنْ زَهْرَةٍ، وَذَكَرَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا"، فَقَالَ رَجُلٌ: أَوَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ، فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ: مَا شَأْنُكَ تُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُكَلِّمُكَ؟ قَالَ: وَرَأَيْنَا أَنَّهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ فَأَفَاقَ يَمْسَحُ الرُّحَضَاءَ وَقَالَ:" أَشَاهِدٌ السَّائِلُ إِنَّهُ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ، وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آكِلَةُ الْخَضِرِ، فَإِنَّهَا أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلْتَ عَيْنَ الشَّمْسِ، فَثَلَطَتْ، ثُمَّ بَالَتْ، ثُمَّ رَتَعَتْ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، وَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ هُوَ إِنْ أَعْطَى مِنْهُ الْيَتِيمَ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ، وَإِنَّ الَّذِي يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَيَكُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے، ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھے، آپ نے فرمایا: اپنے بعد میں تمہارے متعلق دنیا کی رونق و شادابی جس کی تمہارے اوپر بہتات کر دی جائے گی سے ڈر رہا ہوں، پھر آپ نے دنیا اور اس کی زینت کا ذکر کیا۔ تو ایک شخص کہنے لگا: کیا خیر شر لے کر آئے گا؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ تو اس سے کہا گیا: تیرا کیا معاملہ ہے کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرتا ہے، اور وہ تجھ سے بات نہیں کرتے؟ اس وقت ہم نے دیکھا کہ آپ پر وحی اتاری جا رہی تھی۔ پھر وحی موقوف ہوئی تو آپ پسینہ پوچھنے لگے، اور فرمایا: کیا پوچھنے والا موجود ہے؟ بیشک خیر شر نہیں لاتا ہے، مگر خیر اس سبزہ کی طرح ہے جسے موسم ربیع (بہار) اگاتا ہے، (جانور کو بدہضمی سے) مار ڈالتا ہے، یا مرنے کے قریب کر دیتا ہے مگر اس گھاس کو کھانے والے کو (نقصان نہیں پہنچاتا) جو کھائے یہاں تک کہ جب اس کی دونوں کوکھیں بھر جائیں تو وہ دھوپ میں جا کر سورج کا سامنا کرے، اور پائخانہ پیشاب کرے، پھر (جب بھوک محسوس کرے تو) پھر چرے (اس طرح) یقیناً یہ مال بھی ایک سرسبز و شیریں چیز ہے۔ وہ مسلمان کا کیا ہی بہترین ساتھی ہے اگر وہ اس سے یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کو دے، اور جو شخص ناحق مال حاصل کرتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے لیکن آسودہ نہیں ہوتا، اور یہ قیامت کے دن اس کے خلاف گواہ ہو گا ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2582]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ہم آپ کے اردگرد بیٹھ گئے۔ آپ نے فرمایا: مجھے تمہارے بارے میں اس بات کا ڈر ہے کہ میرے بعد تمہارے لیے دنیا کی زیب و زینت عام کر دی جائے گی۔ ایک آدمی نے عرض کیا: کیا خیر بھی شر کو لاتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ اس شخص سے کہا گیا کہ کیا بات ہے کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کر رہا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجھ سے بات نہیں کر رہے ہیں؟ پھر ہمیں اندازہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر رہی ہے۔ حالتِ وحی ختم ہوئی تو آپ نے پسینہ پونچھتے ہوئے فرمایا: کیا وہ شخص موجود ہے جس نے پوچھا تھا؟ «إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ» واقعتاً خیر شر کو نہیں لاتا مگر موسمِ بہار کا اگایا ہوا سبزہ بھی کبھی جانور کو مار دیتا ہے یا قریب المرگ کر دیتا ہے۔ مگر وہ جانور جو چارہ کھائے حتیٰ کہ جب اس کی کوکھیں ابھر جائیں (اس کا پیٹ بھر جائے) تو وہ عین سورج کی طرف منہ کر کے بیٹھ جائے (جگالی کرے)، گوبر کرے، پیشاب کرے، پھر (جب بھوک لگے تو) چرنے لگے۔ «إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ» یقیناً یہ مال سبز اور میٹھا ہے۔ بلاشبہ یہ مومن کا اچھا ساتھی ہے بشرطیکہ وہ اس سے یتیم، مسکین اور مسافر کو دے۔ جو شخص اس مال کو ناحق لیتا ہے، وہ اس (بیمار) شخص کی طرح ہے جو کھاتا رہتا ہے، مگر سیر نہیں ہوتا۔ اور یہ مال قیامت کے دن اس شخص کے خلاف گواہی دے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2582]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 28 (921) (مختصراً)، الزکاة 47 (1465)، الجھاد 37 (2842)، الرقاق 7 (6427)، صحیح مسلم/الزکاة 41 (1052)، (تحفة الأشراف: 4166)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الفتن18 (3995)، مسند احمد (3/7، 21، 91) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی میرے بعد جو فتوحات کا سلسلہ شروع ہو گا اور جو مال و دولت اس سے تمہیں حاصل ہو گی، اس سے مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں تم دنیا کی رنگینیوں اور عیش و عشرت میں پڑ کر اللہ تعالیٰ سے غافل نہ ہو جاؤ، اور آخرت کو بھول بیٹھو۔ ۲؎: کہ اس نے مجھے ناحق حاصل کیا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥هلال بن أبي ميمونة القرشي
Newهلال بن أبي ميمونة القرشي ← عطاء بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← هلال بن أبي ميمونة القرشي
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر
Newهشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة ثبت وقد رمي بالقدر
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي
ثقة حجة حافظ
👤←👥زياد بن أيوب الطوسي، أبو هاشم
Newزياد بن أيوب الطوسي ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة حافظ
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2582 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2582
اردو حاشہ:
(1) مجھے تو اس بات کا ڈر ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں نے فقر کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: مجھے فقر کا کوئی خطرہ نہیں، یعنی اگر تم فقیر رہو تو کوئی خطرے کی بات نہیں بلکہ خطرہ مال دار ہونے میں ہے کہ کہیں فتنے میں نہ پڑ جاؤ۔ یا یہ مطلب ہے کہ مجھے یہ خطرہ نہیں کہ تم فقیر رہو گے بلکہ خطرہ ہے، تم مال دار ہو جاؤ گے۔
(2) کیا خیر بھی… الخ یعنی مال تو اچھی چیز ہے۔ یہ کون سی خطرناک چیز ہے جو آپ اسے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
(3) موسم بہار کا اگایا ہوا سبزہ۔ حالانکہ یہ جانوروں کے لیے بہترین غزا ہوتا ہے مگر اس کا غلط استعمال موت کا سبب بن جاتا ہے۔ اسی طرح مال کا غلط حصول یا استعمال بھی دین کے لیے خطرناک ہے۔
(4) سبز اور میٹھا ہے۔ سبزہ جانور کو اور میٹھی چیز انسان کو مرغوب ہوتی ہے، اس لیے ان میں بے اعتدالی ہو جاتی ہے۔ نتیجہ نقصان کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہی حالت مال کی ہے۔
(5) مگر سیر نہیں ہوتا۔ یہ بھی ایک بیماری ہوتی ہے حتیٰ کہ وہ شخص زیادہ کھانے کی وجہ سے مر جاتا ہے۔
(6) یتیم صدقے کا حق دار ہے بشرطیکہ وہ فقیر بھی ہو۔ اسی طرح مسافر بھی۔
(7) مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ مال ہے مگر ضرورت سے کم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2582]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2582 in Urdu