علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب : الغسل للإهلال
باب: تلبیہ پکارنے کے لیے غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2664
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، أَنَّهَا وَلَدَتْ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بِالْبَيْدَاءِ، فَذَكَرَ أَبُو بَكْرٍ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مُرْهَا فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتُهِلَّ".
اسماء بنت عمیس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے محمد بن ابی بکر صدیق کو بیداء میں جنا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”ان سے کہو کہ غسل کر لیں پھر لبیک پکاریں“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2664]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15761)، موطا امام مالک/الحج 1 (1)، مسند احمد (6/369)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الحج16 (1209)، سنن ابن ماجہ/ الحج 12 (2911) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ غسل نظافت کے لیے ہے طہارت کے لیے نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2664 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2664
اردو حاشہ:
(1) حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ تھیں۔ یہ واقعہ سفر حجۃ الوادع کا ہے۔ احرام سے قبل اسی وادی میں محمد بن ابوبکر پیدا ہوئے۔ (2) حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو غسل کا حکم طہارت کے لیے نہیں تھا کیونکہ یہ تو نفاس کا وقت تھا بلکہ یہ غسل احرام کے لیے تھا۔ معلوم ہوا غسل احرام کی سنت ہے ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفاس والی عورت کو غسل کا حکم نہ دیتے، البتہ یہ واجب نہیں۔ غسل کی جگہ وضو بھی کفایت کر سکتا ہے مگر افضل غسل ہی ہے۔
(1) حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ تھیں۔ یہ واقعہ سفر حجۃ الوادع کا ہے۔ احرام سے قبل اسی وادی میں محمد بن ابوبکر پیدا ہوئے۔ (2) حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو غسل کا حکم طہارت کے لیے نہیں تھا کیونکہ یہ تو نفاس کا وقت تھا بلکہ یہ غسل احرام کے لیے تھا۔ معلوم ہوا غسل احرام کی سنت ہے ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفاس والی عورت کو غسل کا حکم نہ دیتے، البتہ یہ واجب نہیں۔ غسل کی جگہ وضو بھی کفایت کر سکتا ہے مگر افضل غسل ہی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2664]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2664 in Urdu
أسماء بنت عميس الخثعمية ← أبو بكر الصديق