سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
54. باب : كيف التلبية
باب: تلبیہ کس طرح پکارا جائے؟
حدیث نمبر: 2752
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" كَانَ مِنْ تَلْبِيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یوں تھا: «لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك» ۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2752]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لبیک یوں تھی: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ» ”میں حاضر ہوں۔ اے اللہ! میں حاضر ہوں۔ بار بار حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ حاضر ہوں۔ یقینا تمام تعریفیں اور انعامات تیرے لیے خاص ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2752]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9398)، مسند احمد (1/410) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2752 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2752
اردو حاشہ:
یہ روایت مختصر ہے۔ گزشٹہ مفصل روایات میں تلبیے کے مکمل الفاظ موجود ہیں۔
یہ روایت مختصر ہے۔ گزشٹہ مفصل روایات میں تلبیے کے مکمل الفاظ موجود ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2752]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2752 in Urdu
عبد الرحمن بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود