🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
81. بَابُ : إِذَا أَشَارَ الْمُحْرِمُ إِلَى الصَّيْدِ فَقَتَلَهُ الْحَلاَلُ
باب: محرم جب شکار کی طرف اشارہ کرے اور غیر محرم شکار کرے تو کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2829
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُمْ كَانُوا فِي مَسِيرٍ لَهُمْ بَعْضُهُمْ مُحْرِمٌ وَبَعْضُهُمْ لَيْسَ بِمُحْرِمٍ، قَالَ: فَرَأَيْتُ حِمَارَ وَحْشٍ فَرَكِبْتُ فَرَسِي وَأَخَذْتُ الرُّمْحَ، فَاسْتَعَنْتُهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي، فَاخْتَلَسْتُ سَوْطًا مِنْ بَعْضِهِمْ، فَشَدَدْتُ عَلَى الْحِمَارِ فَأَصَبْتُهُ، فَأَكَلُوا مِنْهُ، فَأَشْفَقُوا، قَالَ: فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَلْ أَشَرْتُمْ أَوْ أَعَنْتُمْ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَكُلُوا".
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ سفر میں تھے ان میں سے بعض نے احرام باندھ رکھا تھا اور بعض بغیر احرام کے تھے، میں نے ایک نیل گائے دیکھا تو میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا، اور اپنا نیزہ لے لیا، اور ان لوگوں سے مدد چاہی تو ان لوگوں نے مجھے مدد دینے سے انکار کیا تو میں نے ان میں سے ایک کا کوڑا اُچک لیا اور تیزی سے نیل گائے پر جھپٹا اور اسے پا لیا (مار گرایا) تو ان لوگوں نے اس کا گوشت کھایا پھر ڈرے (کہ ہمارے لیے کھانا اس کا حلال تھا یا نہیں) تو اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم لوگوں نے اشارہ کیا تھا یا کسی طرح کی مدد کی تھی؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو کھاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2829]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک سفر میں جا رہے تھے، ان میں سے کچھ محرم تھے اور کچھ غیر محرم۔ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا تو میں گھوڑے پر سوار ہوا اور نیزہ پکڑا۔ میں نے ان سے مدد طلب کی مگر انہوں نے مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ میں نے زبردستی ان میں سے کسی سے کوڑا چھینا اور گدھے پر حملہ کر دیا اور اسے شکار کر لیا۔ انہوں نے بھی اس سے کھا لیا، پھر انہیں ڈر محسوس ہوا (کہ کہیں یہ ناجائز نہ ہو) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے (شکار کی طرف) اشارہ کیا تھا؟ کیا تم نے کوئی مدد کی تھی؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھا سکتے ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2829]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 5 (1824) مطولا، صحیح مسلم/الحج 8 (1196)، (تحفة الأشراف: 12102)، مسند احمد (5/302)، سنن الدارمی/المناسک 22 (1869) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الحارث بن ربعي السلمي، أبو قتادةصحابي
👤←👥عبد الله بن أبي قتادة الأنصاري، أبو إبراهيم، أبو يحيى
Newعبد الله بن أبي قتادة الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي
ثقة
👤←👥عثمان بن عبد الله التميمي، أبو عبد الله
Newعثمان بن عبد الله التميمي ← عبد الله بن أبي قتادة الأنصاري
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عثمان بن عبد الله التميمي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود
Newأبو داود الطيالسي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة حافظ غلط في أحاديث
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد
Newمحمود بن غيلان العدوي ← أبو داود الطيالسي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2829 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2829
اردو حاشہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوالات سے معلوم ہوا کہ اگر انھوں نے اشارہ کیا ہوتا یا کچھ مدد کی ہوتی تو ان کے لیے وہ شکار کھان جائز نہ ہوتا اور یہی باب کا مقصد ہے کیونکہ اشارہ یا تعاون کرنا شکار کرنے کے مترادف ہے۔ اور شکار کرنا محرم کے لیے ناجائز ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2829]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2829 in Urdu