🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
135. باب : الكلام في الطواف
باب: طواف کے درمیان باتیں کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2924
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَقُودُهُ رَجُلٌ بِشَيْءٍ ذَكَرَهُ فِي نَذْرٍ، فَتَنَاوَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَطَعَهُ، قَالَ:" إِنَّهُ نَذْرٌ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جسے ایک آدمی ایک ایسی چیز سے (باندھ کر) کھینچے لیے جا رہا تھا جسے اس نے نذر میں ذکر کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر کاٹ دیا، فرمایا: یہ نذر ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2924]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جسے ایک دوسرا آدمی کسی چیز سے چلا رہا تھا جس کی اس نے نذر مان رکھی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑا اور توڑ دیا اور فرمایا: یہ (عجب) نذر ہے! [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2924]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظرماقبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی نذر اس طرح بھی ادا ہو جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح خ دون قوله إنه نذر
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥طاوس بن كيسان اليماني، أبو عبد الرحمن
Newطاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة إمام فاضل
👤←👥سليمان بن أبي مسلم الأحول
Newسليمان بن أبي مسلم الأحول ← طاوس بن كيسان اليماني
ثقة ثقة
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← سليمان بن أبي مسلم الأحول
ثقة
👤←👥خالد بن الحارث الهجيمي، أبو عثمان
Newخالد بن الحارث الهجيمي ← ابن جريج المكي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن عبد الأعلى القيسي، أبو صدقة، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الأعلى القيسي ← خالد بن الحارث الهجيمي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2924 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2924
اردو حاشہ:
دور جاہلیت میں لوگ عجیب وغریب نذریں مانتے تھے جن سے کسی کو کوئی فائدہ نہ ہوتا تھا بلکہ وہ انسانی وقار کے خلاف ہوتی تھیں، مثلاً: پیدل حج کو جاؤں گا، دھوپ میں رہوں گا، سر پر اوڑھنی نہیں لوں گی، کسی سے کلام نہیں کروں گا، جوتا نہیں پہنوں گا، ننگا طواف کروں گا وغیرہ۔ ظاہر ہے یہ فضول کام ہیں بلکہ اپنے آپ کو عذاب میں ڈالنے والی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا ان کاموں سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ ایسے کام اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو دعوت دیتے ہیں، لہٰذا ایسی نذر پوری نہ کی جائے بلکہ کفارہ دے دیا جائے۔ (بعض ائمہ کے نزدیک) اس حدیث میں مذکور شخص نے بھی نذر مانی ہوگی کہ میں اپنی ناک میں نکیل ڈال کر طواف کروں گا۔ اس طرح وہ لوگوں کے لیے تماشا بن گیا تھا، لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار ناراضی فرمایا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2924]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2924 in Urdu