سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
139. باب : طواف الرجال مع النساء
باب: مردوں کا عورتوں کے ساتھ طواف کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2929
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا طُفْتُ طَوَافَ الْخُرُوجِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَطُوفِي عَلَى بَعِيرِكِ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ" , عُرْوَةُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أُمِّ سَلَمَةَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے تو واپسی کا طواف نہیں کیا ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کھڑی کر دی جائے، تو تم اپنے اونٹ پر لوگوں کے پیچھے سے طواف کر لو“۔ عبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: عروہ کا ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2929]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18198) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمة | صحابية | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← أم سلمة زوج النبي | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد عبدة بن سليمان الكوفي ← هشام بن عروة الأسدي | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن آدم الجهني محمد بن آدم الجهني ← عبدة بن سليمان الكوفي | ثقة |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2929 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2929
اردو حاشہ:
مرد عورتیں طواف تو اکٹھے ہی کرتے ہیں مگر عورتیں ذرا دور دور ہیں۔ مردوں میں نہ پھنسیں۔ بھیڑ ہو تو حجر اسود اور رکن یمانی سے بھی دور رہیں، البتہ حج اور رمضان کے دنوں میں عورتوں کے لیے مردوں سے بالکل الگ تھلگ طواف ممکن نہیں کیونکہ بہت زیادہ رش ہوتا ہے، لہٰذا یہ مجبوری ہے۔ کوئی حرج نہیں کہ اکٹھے طواف کریں، تاہم حتیٰ الامکان دور رہیں۔
مرد عورتیں طواف تو اکٹھے ہی کرتے ہیں مگر عورتیں ذرا دور دور ہیں۔ مردوں میں نہ پھنسیں۔ بھیڑ ہو تو حجر اسود اور رکن یمانی سے بھی دور رہیں، البتہ حج اور رمضان کے دنوں میں عورتوں کے لیے مردوں سے بالکل الگ تھلگ طواف ممکن نہیں کیونکہ بہت زیادہ رش ہوتا ہے، لہٰذا یہ مجبوری ہے۔ کوئی حرج نہیں کہ اکٹھے طواف کریں، تاہم حتیٰ الامکان دور رہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2929]
عروة بن الزبير الأسدي ← أم سلمة زوج النبي