سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب : ثواب السرية التي تخفق
باب: خالی ہاتھ لوٹ کر آنے والے غازیوں کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 3128
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَا يَحْكِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ:" أَيُّمَا عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي خَرَجَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي، ضَمِنْتُ لَهُ أَنْ أَرْجِعَهُ، إِنْ أَرْجَعْتُهُ بِمَا أَصَابَ مِنْ أَجْرٍ، أَوْ غَنِيمَةٍ، وَإِنْ قَبَضْتُهُ غَفَرْتُ لَهُ وَرَحِمْتُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک حدیث قدسی میں اپنے رب سے نقل فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے جو بھی بندہ میری رضا چاہتے ہوئے اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلا تو میں اس کے لیے ضمانت لیتا ہوں کہ اگر میں اس کو لوٹاؤں گا (یعنی زندہ واپس گھر بھیجوں گا) تو لوٹاؤں گا اجر و ثواب اور غنیمت دے کر اور اگر اس کی روح قبض کر لوں گا تو اس کو بخش دوں گا اور اسے اپنی رحمت سے نوازوں گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3128]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6688)، مسند احمد (2/117) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥يونس بن عبيد العبدي، أبو عبد الله، أبو عبيد يونس بن عبيد العبدي ← الحسن البصري | ثقة ثبت فاضل ورع | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← يونس بن عبيد العبدي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥الحجاج بن المنهال الأنماطي، أبو محمد الحجاج بن المنهال الأنماطي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة | |
👤←👥إبراهيم بن يعقوب السعدي، أبو إسحاق إبراهيم بن يعقوب السعدي ← الحجاج بن المنهال الأنماطي | ثقة حافظ |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3128 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3128
اردو حاشہ:
”اپنے رب جلیل سے“ ایسی روایت کو حدیث قدسی کہتے ہیں جس میں صراحتاً اللہ تعالیٰ سے بیان کرنے کا ذکر ہو۔ اگرچہ آپ دوسری احادیث بھی اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے ہی سے ارشاد فرماتے ہیں مگر حدیث قدسی میں ساری گفتگو اللہ کی طرف سے صیغئہ متکلم میں ہوتی ہے۔
”اپنے رب جلیل سے“ ایسی روایت کو حدیث قدسی کہتے ہیں جس میں صراحتاً اللہ تعالیٰ سے بیان کرنے کا ذکر ہو۔ اگرچہ آپ دوسری احادیث بھی اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے ہی سے ارشاد فرماتے ہیں مگر حدیث قدسی میں ساری گفتگو اللہ کی طرف سے صیغئہ متکلم میں ہوتی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3128]
الحسن البصري ← عبد الله بن عمر العدوي