🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب : غزوة الترك والحبشة
باب: ترک اور حبشہ سے جنگ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3178
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ السَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي سُكَيْنَةَ رَجُلٍ مِنَ الْمُحَرَّرِينَ، عَنْ رَجُلٍ مَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَفْرِ الْخَنْدَقِ، عَرَضَتْ لَهُمْ صَخْرَةٌ حَالَتْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْحَفْرِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ الْمِعْوَلَ، وَوَضَعَ رِدَاءَهُ نَاحِيَةَ الْخَنْدَقِ وَقَالَ:" وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلا لا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ سورة الأنعام آية 115" , فَنَدَرَ ثُلُثُ الْحَجَرِ، وَسَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ قَائِمٌ يَنْظُرُ، فَبَرَقَ مَعَ ضَرْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرْقَةٌ، ثُمَّ ضَرَبَ الثَّانِيَةَ، وَقَالَ: وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلا لا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ سورة الأنعام آية 115 , فَنَدَرَ الثُّلُثُ الْآخَرُ، فَبَرَقَتْ بَرْقَةٌ، فَرَآهَا سَلْمَانُ، ثُمَّ ضَرَبَ الثَّالِثَةَ، وَقَالَ: وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلا لا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ سورة الأنعام آية 115 , فَنَدَرَ الثُّلُثُ الْبَاقِي , وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ رِدَاءَهُ وَجَلَسَ قَالَ سَلْمَانُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُكَ حِينَ ضَرَبْتَ مَا تَضْرِبُ ضَرْبَةً إِلَّا كَانَتْ مَعَهَا بَرْقَةٌ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا سَلْمَانُ رَأَيْتَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: إِي وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: فَإِنِّي حِينَ ضَرَبْتُ الضَّرْبَةَ الْأُولَى رُفِعَتْ لِي مَدَائِنُ كِسْرَى وَمَا حَوْلَهَا وَمَدَائِنُ كَثِيرَةٌ، حَتَّى رَأَيْتُهَا بِعَيْنَيَّ، قَالَ لَهُ: مَنْ حَضَرَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَفْتَحَهَا عَلَيْنَا وَيُغَنِّمَنَا دِيَارَهُمْ، وَيُخَرِّبَ بِأَيْدِينَا بِلَادَهُمْ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، ثُمَّ ضَرَبْتُ الضَّرْبَةَ الثَّانِيَةَ، فَرُفِعَتْ لِي مَدَائِنُ قَيْصَرَ وَمَا حَوْلَهَا، حَتَّى رَأَيْتُهَا بِعَيْنَيَّ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَفْتَحَهَا عَلَيْنَا وَيُغَنِّمَنَا دِيَارَهُمْ وَيُخَرِّبَ بِأَيْدِينَا بِلَادَهُمْ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ثُمَّ ضَرَبْتُ الثَّالِثَةَ، فَرُفِعَتْ لِي مَدَائِنُ الْحَبَشَةِ وَمَا حَوْلَهَا مِنَ الْقُرَى حَتَّى رَأَيْتُهَا بِعَيْنَيَّ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عِنْدَ ذَلِكَ دَعُوا الْحَبَشَةَ مَا وَدَعُوكُمْ، وَاتْرُكُوا التُّرْكَ مَا تَرَكُوكُمْ".
ایک صحابی رسول رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خندق کھودنے کا حکم دیا تو ایک چٹان نمودار ہوئی جو ان کی کھدائی میں رکاوٹ بن گئی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، کدال پکڑی اپنی چادر خندق کے ایک کنارے رکھی، اور آیت «تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم» پڑھ کر کدال چلائی تو ایک تہائی پتھر ٹوٹ کر گر گیا، سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کھڑے دیکھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کدال چلائی، ایک چمک پیدا ہوئی پھر آپ نے آیت: «‏تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم‏» پڑھ کر دوبارہ کدال چلائی تو دوسرا تہائی حصہ ٹوٹ کر الگ ہو گیا پھر دوبارہ چمک پیدا ہوئی، سلمان نے پھر اسے دیکھا۔ پھر آپ نے آیت: «تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم» پڑھ کر تیسری ضرب لگائی تو باقی تیسرا تہائی حصہ بھی الگ ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے نکل آئے، اپنی چادر لی اور تشریف فرما ہوئے، سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب آپ نے ضرب لگائی تو میں نے آپ کو دیکھا، جب بھی آپ نے ضرب لگائی آپ کی ضرب کے ساتھ ایک چمک پیدا ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: سلمان! تم نے یہ دیکھا؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول جی ہاں! قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا (میں نے ایسا ہی دیکھا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میں نے پہلی ضرب لگائی تو مجھے (پردے اٹھا کر) فارس کے شہر اور اس کے اطراف کے دیہات اور دوسرے بہت سے شہر دکھائے گئے میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے خود دیکھا، اس وقت آپ کے جو صحابہ وہاں موجود تھے انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اللہ سے دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر ہمیں فتح نصیب فرمائے اور ان کا ملک ہمیں بطور غنیمت عطا کرے، اور ان کے شہر ہمارے ہاتھوں ویران و برباد کرے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دعا فرما دی، پھر جب میں نے دوسری ضرب لگائی تو پردے اٹھا کر مجھے قیصر کے شہر اور اس کے اطراف (کے قصبات و دیہات) دکھائے گئے (کہ یہ سب تمہیں ملنے والے ہیں) میں نے اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھا ہے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیں کہ ان ممالک کو فتح کرنے میں وہ ہماری مدد فرمائے اور وہ علاقے ہمیں غنیمت میں ملیں اور ان کے شہر ہمارے ہاتھوں تباہ و برباد ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بھی دعا فرمائی، پھر جب میں نے تیسری ضرب لگائی، تو مجھے ملک حبشہ کے شہر اور گاؤں دکھائے گئے، میں نے فی الحقیقت انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا، اس موقع پر آپ نے یوں فرمایا: حبشہ کو چھوڑ دو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھیں اور ترک کو چھوڑ دو جب تک کہ وہ تمہیں چھوڑے رہیں (لیکن اگر وہ تم سے ٹکرائیں تو تم بھی ان سے ٹکراؤ اور انہیں شکست دو)۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3178]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھودنے کا حکم دیا تو ایک ایسی چٹان لوگوں کے سامنے آئی جو لوگوں اور (خندق کی) کھدائی کے درمیان رکاوٹ بن گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، کدال پکڑی اور اپنی چادر خندق کے کنارے رکھ دی اور یہ آیت پڑھ کر ضرب لگائی: ﴿وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا ۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [سورة الأنعام: 115] اور پوری ہوئی تیرے رب کی بات سچائی اور انصاف کے لحاظ سے، کوئی اس کی باتوں کو بدلنے والا نہیں، اور وہ خوب سننے اور جاننے والا ہے۔ (آپ کی ضرب سے) پتھر کا تیسرا حصہ اڑ گیا۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کھڑے دیکھ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرب کے ساتھ ایک چمک پیدا ہوئی۔ پھر آپ نے دوبارہ ضرب لگائی اور وہی آیت پڑھی: ﴿وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا ۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [سورة الأنعام: 115] اور پوری ہوئی تیرے رب کی بات صدق و انصاف کے لحاظ سے، کوئی اس کی باتوں کو بدلنے والا نہیں، اور وہ خوب سننے اور جاننے والا ہے۔ اور مزید تیسرا حصہ ٹوٹ گیا، پھر ایک چمک پیدا ہوئی جسے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے دیکھا۔ پھر آپ نے تیسری ضرب لگائی اور یہی آیت پڑھی: ﴿وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا ۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [سورة الأنعام: 115] اور پوری ہوئی تیرے رب کی بات سچائی اور انصاف کے لحاظ سے، کوئی اس کی باتوں کو بدلنے والا نہیں، اور وہ خوب سننے اور جاننے والا ہے۔ اور باقی پتھر بھی ریزہ ریزہ ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے نکلے، اپنی چادر اٹھائی اور بیٹھ گئے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! جب آپ ضربیں لگا رہے تھے تو اس کے ساتھ چمک پیدا ہوتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: سلمان! تو نے وہ (چمک) دیکھی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں اے اللہ کے رسول! قسم اس ذات کی جس نے آپ کو برحق نبی بنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے جب پہلی ضرب لگائی تھی تو مجھے کسریٰ کے شہر اور اردگرد کے بہت سے دوسرے شہر دکھائے گئے حتیٰ کہ میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ آپ کے پاس موجود صحابہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! دعا فرمائیں اللہ تعالیٰ یہ شہر ہم پر فتح فرمائے اور ان کے گھر ہمیں غنیمت میں عنایت فرمائے اور ہمارے ہاتھوں ان کے علاقے تاراج فرمائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی۔ (آپ نے فرمایا:) جب میں نے پھر دوسری ضرب لگائی تو مجھے قیصر اور اردگرد کے بہت سے شہر دکھائے گئے حتیٰ کہ میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ یہ علاقے ہمارے لیے فتح فرمائے، ان کے گھر ہمیں غنیمت میں عطا فرمائے اور ان کے علاقے ہمارے ہاتھوں تاراج فرمائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا بھی فرمائی۔ (آپ نے فرمایا:) پھر میں نے تیسری ضرب لگائی تو مجھے حبشہ اور اردگرد کے بہت سے شہر دکھلائے گئے حتیٰ کہ میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حبشیوں کو اپنے حال پر رہنے دو جب تک وہ تمہیں تمہارے حال پر رہنے دیں اور ترکوں کو کچھ نہ کہو جب تک وہ تمہیں کچھ نہ کہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3178]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الملاحم 8 (4302) مختصرا، (تحفة الأشراف: 15689) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥اسم مبهم0
👤←👥محلم بن سوار الحمصي، أبو سكينة
Newمحلم بن سوار الحمصي ← اسم مبهم
مختلف في صحبته
👤←👥يحيى بن أبي عمرو السيباني، أبو زرعة
Newيحيى بن أبي عمرو السيباني ← محلم بن سوار الحمصي
ثقة يرسل عن الصحابة
👤←👥ضمرة بن ربيعة الفلسطيني، أبو عبد الله
Newضمرة بن ربيعة الفلسطيني ← يحيى بن أبي عمرو السيباني
ثقة
👤←👥عيسى بن يونس الفاخوري، أبو موسى
Newعيسى بن يونس الفاخوري ← ضمرة بن ربيعة الفلسطيني
صدوق حسن الحديث
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3178 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3178
اردو حاشہ:
(1) ایک صحابی معلوم یوں ہوتا ہے کہ وہ صحابی حضرت سلمان رضی اللہ عنہ ہی ہیں۔ واللہ اعلم۔ (2) تینوں ضربیں لگاتے وقت مندرجہ بالا آیت پڑھنے کا مقصید یہ ہے کہ دین اسلام کا غلبہ اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے اور یہ ہوکررہے گا۔ کوئی اسے بدل نہیں سکے گا۔ (3) چمک بسا اوقات سخت ضرب کی وجہ سے چنگاریاں اڑتی ہیں۔ ظاہر ہے یہاں چمک سے یہ چنگاریاں مرا دنہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب فرمایا کہ سلمان رضی اللہ عنہ کو وہ چمک کیسے نظر آگئی‘ جب کہ چنگاریاں ہر موجود شخص کو نظر آتی ہے۔ یہ کوئی غیبی چیز تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھلائی گئی۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کو وہ چمک تو نظر آئی مگر اس چمک کا مقصود معلوم نہ ہوا کیونکہ مقصود آپ کے لیے تھا۔ فوائدومسائل: (4) کسریٰ ایران کے بادشاہ کو خسرو کہتے تھے۔ عربوں نے اسے کسریٰ بنالیا۔ (5) قیصر رومیوں کے بادشاہ کا لقب تھا۔ (6) حبشہ اس ملک پر آپ نے حملہ کرنے سے روکا‘ اس کی ایک وجہ بظاہر یہ ہوسکتی ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کو ابتدائی مشکل دور میں پناہ مہیا کی تھی۔ اور اس ملک کا بادشاہ سب سے پہلے مسلمان ہوا۔ دوسری وجہ شاحین یہ بیان کی ہے کہ یہ علاقہ بہت دوردراز کا تھا‘ درمیان میں دشوار گزار کا جنگلات اور پہاڑ تھے‘ علاوہ ازیں سمندر میں بھی حائل تھے۔ اسی طرح ترکوں کا معاملہ تھا‘ یہ علاقہ ٹھنڈا تھا‘ جب کہ عرب گرم ملک ہے۔ ان دونوں علاقوں میںجا کر لڑنا مسلمانوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث تھا‘ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں علاقوں میں جا کرلڑنے سے منع فرمادیا‘ تاہم اس ممانعت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ضرورت داعی ہو تب بھی ان سے نہ لڑا جائے‘ نہ مسلمانوں ہی نے یہ مطلب لیا کیونکہ اس کا مطلب اگر یہ ہوتا تو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم اولین غازیانِ قسطنطنیہ کے لیے بشارت سناتے نہ مسلمان ہی کبھی اُدھر کا رُخ کرتے۔ (7) چمک میں کسریٰ وقیصر کے شہر اور دیگرشہر دکھائے جانے کا مطلب ان علاقوں کی فتح ہے۔ اور واقعتا ایسے ہی ہوا۔ اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3178]

Sunan an-Nasa'i Hadith 3178 in Urdu