🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب : عرض المرأة نفسها على من ترضى
باب: پسندیدہ شخص سے نکاح کے لیے عورت اپنے آپ کو پیش کر سکتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3251
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ، يَقُولُ: كُنْتُ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ، فَقَالَ:" جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَكَ فِيَّ حَاجَةٌ؟".
ثابت بنانی کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، وہاں ان کی ایک بیٹی بھی موجود تھی، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا، اور کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری ضرورت ہے؟ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3251]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 32 (5120) مطولا، والأدب 79 (6123) مطولا، سنن ابن ماجہ/النکاح 57 (2001) (تحفة الأشراف: 468) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اگر آپ مجھے نکاح کے لیے قبول فرمائیں تو میں اسے اپنی خوش نصیبی سمجھوں گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥مرحوم بن عبد العزيز الأموي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو بشر
Newمرحوم بن عبد العزيز الأموي ← ثابت بن أسلم البناني
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← مرحوم بن عبد العزيز الأموي
ثقة ثبت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3251 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3251
اردو حاشہ:
(1) پیچھے گزرچکا ہے کہ اس دور ہجرت میں بعض خواتین کے نسبی اولیاء نہیں تھے (کونکہ وہ کفر پر قائم تھے) اس لیے وہ اپنے اولیاء کے بجائے خود نکاح کی بات کرنے پر مجبور تھیں۔ ایسے حالات میں یہ کوئی قابل اعتراف بات نہیں۔ حاکم اعلیٰ ہونے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ولی تھے۔ احتراماً انہوں نے پہلے آپ کو نکاح کی پیش کش کی ورنہ ان کا مقصد صرف نکاح تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کی ایسی پیش کش کو قبول نہ فرمایا جب تک یہی پیش کش ان کے اولیاء نے نہیں کی۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ (2) اگر مختلف رشتے آئے ہوں اور ان میں کوئی دین داررشتہ ہو تو عورت اپنے اولیاء کو اس کی طرف توجہ دلا سکتی ہے۔ اس میں انشاء اللہ کوئی قلت حیا یا عدم حیا والی بات نہیں‘ یہ عورت کی اپنی رغبت ہے جو اس کے لیے دنیا وآخرت میں نفع کا سبب ہے۔ (3) ہر معاملے میں آخرت کو دنیا پر ترجیح دینی چاہیے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3251]