علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
84. باب : الهدية لمن عرس
باب: دولہا کو ہدیہ و تحفہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3389
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بِأَهْلِهِ، قَالَ: وَصَنَعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا، قَالَ: فَذَهَبَتْ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ أُمِّي تُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَتَقُولُ لَكَ: إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ، قَالَ:" ضَعْهُ، ثُمَّ قَالَ: اذْهَبْ، فَادْعُ فُلَانًا وَفُلَانًا"، وَمَنْ لَقِيتَ، وَسَمَّى رِجَالًا، فَدَعَوْتُ مَنْ سَمَّى، وَمَنْ لَقِيتُهُ، قُلْتُ لِأَنَسٍ: عِدَّةُ كَمْ كَانُوا؟ قَالَ: يَعْنِي زُهَاءَ ثَلَاثَ مِائَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيَتَحَلَّقْ عَشَرَةٌ عَشَرَةٌ، فَلْيَأْكُلْ كُلُّ إِنْسَانٍ مِمَّا يَلِيهِ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، فَخَرَجَتْ طَائِفَةٌ، وَدَخَلَتْ طَائِفَةٌ، قَالَ لِي: يَا أَنَسُ، ارْفَعْ، فَرَفَعْتُ فَمَا أَدْرِي حِينَ رَفَعْتُ، كَانَ أَكْثَرَ أَمْ حِينَ وَضَعْتُ".
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا اور اپنی بیوی کے پاس گئے اور میری ماں ام سلیم رضی اللہ عنہا نے حیس بنایا، میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ سے عرض کیا: میری والدہ ماجدہ آپ کو سلام پیش کرتی ہیں اور کہتی ہیں: یہ ہماری طرف سے آپ کے لیے تھوڑا سا تحفہ ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے رکھ دو اور جاؤ فلاں فلاں کو بلا لاؤ، آپ نے ان کے نام لیے اور (راستے میں) جو بھی ملے اسے بھی بلا لو“۔ راوی جعد کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: وہ لوگ کتنے رہے ہوں گے؟ کہا: تقریباً تین سو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس آدمیوں کا حلقہ (دائرہ) بنا کر کھاؤ، اور ہر شخص اپنے قریب (یعنی سامنے) سے کھائے“، تو ان لوگوں نے (ایسے ہی کر کے) کھایا اور سب آسودہ ہو گئے، (دس آدمیوں کی) ایک جماعت کھا کر نکلی تو (دس آدمیوں کی) دوسری جماعت آئی (اور اس نے کھایا اور وہ آسودہ ہوئی، اس طرح لوگ آتے گئے اور پیٹ بھر کر کھاتے اور نکلتے گئے، جب سب کھا چکے تو) مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انس! اٹھا لو (وہ کھانا جو لائے تھے) تو میں نے اٹھا لیا۔ مگر میں کہہ نہیں سکتا کہ جب میں نے لا کر رکھا تھا تب زیادہ تھا یا جب اٹھایا تب (زیادہ تھا)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3389]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 64 (5163) تعلیقًامطولا، صحیح مسلم/النکاح 15 (1428)، سنن الترمذی/تفسیرسورة الأحزاب 34 (3218)، (تحفة الأشراف: 513)، مسند احمد (3/163) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”حیس“ یعنی مالیدہ، حیس گھی، پنیر اور کھجور سے بنایا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3389 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3389
اردو حاشہ:
شادی بیاہ کے موقع پر دلھن دلھن کو تحفئہ ہدیہ دینا نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے‘ جیسا کہ مذکورہ حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ اس حدیث میں جس زوجہ محترمہ کا ذکر ہے وہ حضرت زینبؓ ہیں۔ حضرت ام سلیمؓ نے ملیدہ کا ہدیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ہدیہ قبول فرمایا اور کم وبیش تین سو کے قریب صحابہ کرام کو بھی اس ہدیے میں شریک فرمایا۔ حدیث شریف سے مطلقاً ہدیہ دینے کا بھی استحباب ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس طرح ایک دوسرے سے محبت والفت پیدا ہوتی ہے‘ دوریاں کم ہوتی اور قربتیں بڑھتی ہیں۔ اس ذریعے سے اجتماعیت کو فروغ ملتا ہے جو کہ مطلوب اور محبوب عمل ہے۔ ارشاد گرامی ہے: [تَهادُوا تَحابُّوا] (صحیح الجامع الصغیر‘ حدیث: 3004) یعنی ایک دوسرے کو تحفے ہدیے دیا کرو‘ اس سے آپس کی محبتیں پروان چڑھتیں ہیں۔ چنانچہ بالخصوص اہل علم اور بالعموم عوام الناس کو اس سنت پر اہتمام سے عمل کرنا چاہیے۔
شادی بیاہ کے موقع پر دلھن دلھن کو تحفئہ ہدیہ دینا نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے‘ جیسا کہ مذکورہ حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ اس حدیث میں جس زوجہ محترمہ کا ذکر ہے وہ حضرت زینبؓ ہیں۔ حضرت ام سلیمؓ نے ملیدہ کا ہدیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ہدیہ قبول فرمایا اور کم وبیش تین سو کے قریب صحابہ کرام کو بھی اس ہدیے میں شریک فرمایا۔ حدیث شریف سے مطلقاً ہدیہ دینے کا بھی استحباب ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس طرح ایک دوسرے سے محبت والفت پیدا ہوتی ہے‘ دوریاں کم ہوتی اور قربتیں بڑھتی ہیں۔ اس ذریعے سے اجتماعیت کو فروغ ملتا ہے جو کہ مطلوب اور محبوب عمل ہے۔ ارشاد گرامی ہے: [تَهادُوا تَحابُّوا] (صحیح الجامع الصغیر‘ حدیث: 3004) یعنی ایک دوسرے کو تحفے ہدیے دیا کرو‘ اس سے آپس کی محبتیں پروان چڑھتیں ہیں۔ چنانچہ بالخصوص اہل علم اور بالعموم عوام الناس کو اس سنت پر اہتمام سے عمل کرنا چاہیے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3389]
Sunan an-Nasa'i Hadith 3389 in Urdu
جعد بن دينار اليشكري ← أنس بن مالك الأنصاري