سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب : الغيرة
باب: غیرت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3413
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، فَتَجَسَّسْتُهُ، فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ , أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ:" سُبْحَانَكَ , وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ". فَقُلْتُ: بِأَبِي , وَأُمِّي إِنَّكَ لَفِي شَأْنٍ، وَإِنِّي لَفِي شَأْنٍ آخَرَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب پایا، مجھے گمان ہوا کہ آپ کسی بیوی کے پاس گئے ہوں گے۔ میں آپ کو تلاش کرنے لگی، دیکھا کہ آپ رکوع یا سجدہ میں ہیں اور کہہ رہے ہیں: «سبحانك و بحمدك لا إله إلا أنت» ”پاک ہے تیری ذات، تیری ہی تعریف ہے اور تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں“۔ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کچھ کر رہے ہیں اور میں کچھ اور ہی گمان کر رہی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3413]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1132 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3413 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3413
اردو حاشہ:
: ”غلطاں ہوں“ یعنی آپ اپنے اللہ سے لولگائے ہوئے ہیں اور میں سمجھ رہی تھی کہ آپ اپنی کسی اور بیوی کے ہاں ہیں۔ یہ بدگمانی تھی جو ممنوع ہے۔
: ”غلطاں ہوں“ یعنی آپ اپنے اللہ سے لولگائے ہوئے ہیں اور میں سمجھ رہی تھی کہ آپ اپنی کسی اور بیوی کے ہاں ہیں۔ یہ بدگمانی تھی جو ممنوع ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3413]
عبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق