🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
75. باب : نسخ المراجعة بعد التطليقات الثلاث
باب: تین طلاق کے بعد حق مراجعت کے ختم منسوخ ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3584
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ النَّحْوِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , فِي قَوْلِهِ:" مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا سورة البقرة آية 106 , وَقَالَ: وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَكَانَ آيَةٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ سورة النحل آية 101 , وَقَالَ: يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ سورة الرعد آية 39 , فَأَوَّلُ مَا نُسِخَ مِنَ الْقُرْآنِ الْقِبْلَةُ، وَقَالَ: وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلاثَةَ قُرُوءٍ وَلا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ سورة البقرة آية 228 إِلَى قَوْلِهِ إِنْ أَرَادُوا إِصْلاحًا سورة البقرة آية 228، وَذَلِكَ بِأَنَّ الرَّجُلَ كَانَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا، وَإِنْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، فَنَسَخَ ذَلِكَ، وَقَالَ: الطَّلاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ سورة البقرة آية 229".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما قرآن پاک کی آیت: «ما ننسخ من آية أو ننسها نأت بخير منها أو مثلها» یعنی ہم جو کوئی آیت منسوخ کر دیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو ہم اس کی جگہ اس سے بہتر یا اسی جیسی کوئی اور آیت لے آتے ہیں (البقرہ: ۱۰۶) اور دوسری آیت: «وإذا بدلنا آية مكان آية واللہ أعلم بما ينزل» یعنی جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس نے کیا چیز اتاری ہے تو وہ کہتے ہیں تو تو گڑھ لاتا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ سب سمجھتے ہی نہیں ہیں (النحل: ۱۰۱)، اور تیسری آیت: «يمحو اللہ ما يشاء ويثبت وعنده أم الكتاب» اللہ جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے باقی اور ثابت رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب (یعنی لوح محفوظ) ہے (الرعد: ۳۹)۔ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: پہلی چیز جو قرآن سے منسوخ ہوئی ہے وہ قبلہ ہے۔ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما آیت: «والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء ولا يحل لهن أن يكتمن ما خلق اللہ في أرحامهن» سے لے کر «إن أرادوا إصلاحا» تک یعنی اور طلاق یافتہ عورتیں تین حیض کے آ جانے کا انتظار کریں گی اور ان کے لیے حلال نہیں ہے کہ ان کی بچہ دانیوں میں اللہ نے جو تخلیق کر دی ہو اسے چھپائیں اگر وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہیں، البتہ ان کے خاوند اگر اصلاح کا ارادہ رکھتے ہوں تو وہ انہیں لوٹا لینے کا پورا حق رکھتے ہیں (البقرہ: ۲۲۸) کی تفسیر میں فرماتے ہیں (پہلے معاملہ یوں تھا) کہ اگر کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا تھا تو اسے لوٹا لینے کا بھی پورا پورا حق رکھتا تھا خواہ اس نے اسے تین طلاقیں ہی کیوں نہ دی ہوں، ابن عباس کہتے ہیں: یہ چیز منسوخ ہو گئی کلام پاک کی اس آیت «الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان‏» یہ طلاقیں دو مرتبہ ہیں پھر یا تو اچھائی کے ساتھ روک لینا ہے یا عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے (البقرہ: ۲۲۹) سے (یعنی وہ صرف دو طلاق تک رجوع کر سکتا ہے اس سے زائد طلاق دینے پر رجوع کرنا جائز نہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3584]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرامین ﴿مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا﴾ [سورة البقرة: 106] جو آیت ہم منسوخ کر دیں یا بھلا دیں، ہم اس سے بہتر یا کم از کم اس جیسی آیت اور لے آتے ہیں اور ﴿وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَكَانَ آيَةٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ﴾ [سورة النحل: 101] جب ہم کسی آیت کی جگہ کوئی اور آیت لے آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی اتاری ہوئی آیتوں کو خوب جانتا ہے...الخ اور ﴿يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ﴾ [سورة الرعد: 39] اللہ تعالیٰ جو چاہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہے باقی رکھتا ہے اور اس کے پاس ہی اصل کتاب ہے۔ کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ قرآن مجید میں سب سے پہلے قبلہ منسوخ ہوا، اسی طرح فرمایا: ﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا﴾ [سورة البقرة: 228] طلاق شدہ عورتیں تین حیض تک اپنے آپ کو روک رکھیں اور ان کے لیے جائز نہیں کہ اس چیز کو چھپائیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے رحم میں پیدا فرمائی ہے (آخر آیت تک)۔ پہلے یہ دستور تھا کہ کوئی آدمی جب اپنی بیوی کو طلاق دیتا تو وہ اس سے رجوع کا حق رکھتا تھا، چاہے تین طلاقیں ہی دے چکا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس دستور کو منسوخ فرما دیا اور فرمایا: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229] رجعی طلاق دو دفعہ ہی ہے۔ رکھنا ہے تو اچھے طریقے سے رکھے ورنہ اچھے طریقے سے چھوڑ دے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3584]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3529 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥يزيد بن أبي سعيد النحوي، أبو الحسن
Newيزيد بن أبي سعيد النحوي ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة
👤←👥الحسين بن واقد المروزي، أبو علي، أبو عبد الله
Newالحسين بن واقد المروزي ← يزيد بن أبي سعيد النحوي
صدوق حسن الحديث
👤←👥علي بن الحسين القرشي، أبو الحسن، أبو الحسين
Newعلي بن الحسين القرشي ← الحسين بن واقد المروزي
مقبول
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← علي بن الحسين القرشي
ثقة حافظ إمام
👤←👥زكريا بن يحيى السجزي، أبو عبد الرحمن
Newزكريا بن يحيى السجزي ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة حافظ
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3584 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3584
اردو حاشہ:
طلاق سے رجوع صرف دو دفعہ ہی ممکن ہے‘ تیسری دفعہ طلاق دینے سے عورت حرام ہوجاتی ہے۔ نہ رجوع نہ نکاح۔ یہ مسئلہ متفق علیہ ہے۔ جاہلیت کے رواج میں عورتو ں کے لیے بڑی مصیبت تھی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3584]

Sunan an-Nasa'i Hadith 3584 in Urdu