سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : ذكر اختلاف ألفاظ الناقلين لخبر النعمان بن بشير في النحل
باب: عطیہ و ہبہ (بخشش) کے سلسلہ میں نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے سیاق کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 3705
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ النُّعْمَانِ، وَحُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَاهُ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُنْفِذَهُ أَنْفَذْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَهُ"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَارْدُدْهُ".
بشیر بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (اپنے بیٹے) نعمان بن بشیر کو لے کر آئے اور عرض کیا: میں نے اس بیٹے کو ایک غلام بطور عطیہ دیا ہے، اگر آپ اس عطیہ کے نفاذ کو مناسب سمجھتے ہوں تو میں اسے نافذ کر دوں، آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنے سبھی بیٹوں کو ایسا ہی عطیہ دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم اسے واپس لے لو“۔ [سنن نسائي/كتاب النحل/حدیث: 3705]
حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام عطیہ کیا ہے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے مناسب سمجھتے ہیں تو میں اس عطیے کو نافذ کر دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اپنے سب بیٹوں کو عطیہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اسے بھی واپس کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب النحل/حدیث: 3705]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3702، (تحفة الأشراف: 2020، 11617)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 3707، 3708، 3713) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 3705 in Urdu
حميد بن عبد الرحمن الزهري ← بشير بن سعد الأنصاري