🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. باب : من نذر أن يصوم ثم مات قبل أن يصوم
باب: آدمی روزہ رکھنے کی نذر مانے اور اس سے پہلے مر جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3847
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , عَنْ شُعْبَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ يُحَدِّثُ , عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: رَكِبَتِ امْرَأَةٌ الْبَحْرَ فَنَذَرَتْ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا , فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَصُومَ , فَأَتَتْ أُخْتُهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ ," فَأَمَرَهَا أَنْ تَصُومَ عَنْهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے سمندر کا سفر کیا اور نذر مانی کہ وہ ایک مہینہ روزے رکھے گی پھر وہ روزے رکھنے سے پہلے ہی مر گئی تو اس کی بہن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ اس کی طرف سے روزے رکھے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3847]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5620)، مسند احمد (1/338) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥مسلم بن أبي عبد الله البطين، أبو عبد الله
Newمسلم بن أبي عبد الله البطين ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← مسلم بن أبي عبد الله البطين
ثقة حافظ
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥بشر بن خالد العسكري، أبو محمد
Newبشر بن خالد العسكري ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3847 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3847
اردو حاشہ:
معلوم ہوا کہ میت کے ذمے روزے کے (یا فرضی) روزے ہوں تو اس کے لواحقین اس کی طرف سے روزے رکھ سکتے ہیں۔ بشرطیکہ میت کو روزے رکھنے کا موقع ملا ہو لیکن وہ رکھ نہ سکا ہو۔ احناف کے نزدیک میت کی طرف سے روزے نہیں رکھے جاسکتے بلکہ روزوں کا فدیہ دیا جائے گا۔ مگر یہ اس صریح روایت کی خلاف ورزی ہے۔ ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کی طرف سے روزے رکھنا فرض نہیں‘ فدیہ بھی دیا جاسکتا ہے۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3847]