سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : تعظيم الدم
باب: ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4007
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ: وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93 , فَسَأَلْتُهُ , فَقَالَ:" لَمْ يَنْسَخْهَا شَيْءٌ". وَعَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68 , قَالَ:" نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ".
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلی نے مجھے حکم دیا کہ میں ابن عباس سے ان دو آیتوں «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم»، «والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم اللہ إلا بالحق» کے متعلق پوچھوں، اور میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اسے کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا۔ اور دوسری آیت کے بارے میں انہوں نے کہا: یہ اہل مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4007]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان دو آیتوں کے بارے میں پوچھوں۔ ایک تو یہ آیت ہے: ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ﴾ [سورة النساء: 93] ”جو شخص کسی مومن کو قصداً قتل کر دے، اس کی سزا جہنم ہے۔“ میں نے پوچھا تو آپ نے فرمایا: اس آیت کو کسی اور آیت نے منسوخ نہیں کیا اور دوسری آیت ہے: ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ﴾ [سورة الفرقان: 68] ”جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی کو ناحق قتل نہیں کرتے جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ۔“ فرمایا: یہ کفار کے بارے میں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4007]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر الفرقان 4 (4762)، صحیح مسلم/التفسیرح 18 (3023)، سنن ابی داود/الفتن 6 (2473)، وراجع أیضا: صحیح البخاری/مناقب الأنصار 29 (3855)، تفسیر الفرقان 3 (4765)، (تحفة الأشراف: 5624)، ویأتي برقم (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4007 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4007
اردو حاشہ:
گویا دونوں میں سے کوئی بھی منسوخ نہیں، پہلی آیت مسلمانوں کے بارے میں ہے اور یہ دوسری آیت کفار کے بارے میں ہے۔ اس تخصیص کو بھی نسخ کہہ لیتے ہیں، اس لیے پچھلی حدیث میں اس دوسری آیت کو منسوخ بھی کہا گیا ہے۔ نتیجے میں کوئی فرق نہیں۔
گویا دونوں میں سے کوئی بھی منسوخ نہیں، پہلی آیت مسلمانوں کے بارے میں ہے اور یہ دوسری آیت کفار کے بارے میں ہے۔ اس تخصیص کو بھی نسخ کہہ لیتے ہیں، اس لیے پچھلی حدیث میں اس دوسری آیت کو منسوخ بھی کہا گیا ہے۔ نتیجے میں کوئی فرق نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4007]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4007 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي