🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب : قوله تعالى { وأولي الأمر منكم }
باب: آیت کریمہ: ”اور فرمانبرداری کو رسول (صلی للہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی“ کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4199
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ سورة النساء آية 59، قَالَ:" نَزَلَتْ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ، بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ «يا أيها الذين آمنوا أطيعوا اللہ وأطيعوا الرسول» اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو (النساء: ۵۹) یہ آیت عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں اتری، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ میں بھیجا تھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4199]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ آیت: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ﴾ [سورة النساء: 59] اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو حضرت عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری۔ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر میں (امیر بنا کر) بھیجا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4199]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیرسورة النساء 11 (4584)، صحیح مسلم/الإمارة 8 (1834)، سنن ابی داود/الجہاد 96 (2624)، سنن الترمذی/الجہاد 3 (1672)، تحفة الأشراف: 5651)، مسند احمد 1/337) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ اس سریہ میں کسی بات پر اپنے ماتحتوں پر ناراض ہو گئے تو آگ جلانے کا حکم دیا، اور جب آگ جلا دی گئی تو سب کو حکم دیا کہ اس میں کود جائیں، اس پر بعض ماتحتوں نے کہا: ہم تو آگ ہی سے بچنے کے لیے اسلام میں داخل ہوئے ہیں تو پھر آگ میں کیوں داخل ہوں، پھر معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کرنے کی بات آئی، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اولیٰ الامر سے مراد امراء ہیں نہ کہ علماء اور اگر علماء بھی شامل ہیں تو مقصود یہ ہو گا کہ ایسے امور جن کے بارے میں قرآن و حدیث میں واضح تعلیمات موجود نہ ہوں ان میں ان کی طرف رجوع کیا جائے۔ ائمہ اربعہ کے بارے میں خاص طور پر اس آیت کے نازل ہونے کی بات تو قیاس سے بہت زیادہ بعید ہے کیونکہ اس وقت تو ان کا وجود ہی نہیں تھا۔ اور ان کی تقلید جامد تو بقول شاہ ولی اللہ دہلوی چوتھی صدی کی پیداوار ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥يعلى بن مسلم المكي
Newيعلى بن مسلم المكي ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← يعلى بن مسلم المكي
ثقة
👤←👥الحجاج بن محمد المصيصي، أبو محمد
Newالحجاج بن محمد المصيصي ← ابن جريج المكي
ثقة ثبت
👤←👥الحسن بن محمد الزعفراني، أبو علي
Newالحسن بن محمد الزعفراني ← الحجاج بن محمد المصيصي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4199 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4199
اردو حاشہ:
(1) آیت میں ﴿أُولِي الأمْرِ﴾ سے مراد امراء اور حکام ہیں۔ بعض ائمہ کے نزدیک اس سے مراد علماء بھی ہیں، خواہ علماء ہوں یا امراء و حکام سب کی اطاعت قرآن و سنت کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر ان کا کوئی حکم شریعت کے مخالف ہو اس میں ان کی اطاعت بجا لانا ناجائز اور حرام ہے۔
(2) اس آیت سے بعض لوگوں نے تقلید شخصی کا مسئلہ کشید کرنے کی جسارت کی ہے۔ حالانکہ آیت مبارکہ سے تو تقلید شخصی کا رد ہوتا ہے، بالخصوص منصوص امور میں تو کسی کی قطعاً کوئی تقلید جائز ہی نہیں، چاہے کوئی شخص کتنا ہی محترم، بزرگ، فقیہ اور بڑا کیوں نہ ہو، نص کے مقابلے میں تو ہر شخص ہی چھوٹا ہے۔ یہی حل امراء کا بھی ہے کہ ان کی اطاعت بھی صرف معروف میں ہے، نہ کہ منکر میں جیسا کہ متعدد بار سابقہ احادیث کے فوائد میں ذکر ہو چکا ہے۔
(3) یہ حدیث متفق علیہ، یعنی صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے۔ صحیح بخاری میں اس کی پوری تفصیل موجود ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ بھیجا اور ایک شخص (حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ تعالٰی عنہ) کو اس دستے کا امیر مقرر فرمایا۔ امیر دستہ نے کسی وجہ سے ناراض ہو کر اپنی معمورین کو حکم دیا کہ لکڑیوں کا گٹھا جمع کر کے اسے آگ لگاؤ اور اس آگ میں کود جاؤ، چنانچہ کچھ لوگ تو آگ میں کودنے پر تیار ہو گئے جبکہ کچھ نے کہا کہ آگ سے بچنے کے لیے تو ہم مسلمان ہوئے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑ کر آئے ہیں اور وہ آگ کے اندر جانے پر تیار نہ ہوئے۔ بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ نے اس وقت فرمایا: [ لو دَخَلُوها ما خَرَجُوا منها إلى يَومِ القِيامَةِ ] اگر یہ لوگ آگ میں داخل ہو جاتے تو روز قیامت تک اسی میں رہتے، اس سے نکل نہ سکتے۔ اور آپ نے مزید فرمایا: [الطّاعةُ في المعروفِ ] اطاعت تو صرف معروف (شریعت مطہرہ کے عین مطابق) کاموں میں ہے۔ (صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4340) تقلید شخصی کے لیے اس آیت کو پیش کرنے والوں کو بہت بڑی ٹھوکر لگی ہے کیونکہ نزول قرآن کے وقت تو موجودہ دور کے مقلدین کے مجتہدین کا وجود تک دنیا میں نہیں تھا۔ پھر ان کی تقلید کیسی؟ ان مجتہدین کے زمانے میں بھی ان کی تقلید کا قطعاً کوئی رواج تھا اور نہ اس کا تصور ہی۔ بلکہ بدعتِ تقلید تو ہجرت نبوی کے چار سو سال بعد رائج ہوئی جیسا کہ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے حجۃ اللہ البالغۃ میں اس کی تصریح فرمائی ہے۔ دین اسالم میں تو اس بات کی قطعاً کوئی گنجائش ہی نہیں ہے کہ تمام دینی معاملات میں کسی ایک متعین امتی مجتہد کی تقلید کی جائے چہ جائیکہ اس کو واجب قرار دیا جائے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4199]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4199 in Urdu