سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب : الضب
باب: ضب کا بیان۔
حدیث نمبر: 4322
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهِيَ خَالَتُهُ، فَقُدِّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمُ ضَبٍّ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُ شَيْئًا حَتَّى يَعْلَمَ مَا هُوَ، فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ: أَلَا تُخْبِرْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَأْكُلُ؟، فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ , فَتَرَكَهُ، قَالَ خَالِدٌ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحَرَامٌ هُوَ؟، قَالَ:" لَا، وَلَكِنَّهُ طَعَامٌ لَيْسَ فِي أَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ". قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ إِلَيَّ , فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ. وَحَدَّثَهُ ابْنُ الْأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ، وَكَانَ فِي حِجْرِهَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہیں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ۱؎ نے بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے (یہ ان کی خالہ تھیں) ۲؎، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ضب کا گوشت پیش کیا گیا، آپ کا معمول تھا کہ آپ کوئی چیز نہ کھاتے جب تک معلوم نہ ہو جائے کہ وہ کیا ہے، تو امہات المؤمنین رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں بتاؤ گی کہ آپ کیا کھا رہے ہیں؟ تو انہوں نے آپ کو بتایا کہ یہ ضب کا گوشت ہے، چنانچہ آپ نے اسے چھوڑ دیا، خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا وہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن وہ ایسا کھانا ہے جو میری قوم کی زمین میں نہیں ہوتا، اس لیے مجھے اس سے گھن آ رہی ہے“۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے اسے اپنی طرف کھینچا اور اسے کھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔ اس حدیث کو ابن الاصم نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، ابن الاصم آپ کی گود میں پلے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4322]
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (آپ کی زوجہ محترمہ) حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ہاں گیا۔ وہ میری خالہ تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سانڈے کا گوشت پیش کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک کوئی چیز نہیں کھاتے تھے، جب تک پتا نہ چل جاتا کہ یہ کیا ہے؟ اس لیے ایک عورت نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا کیوں نہیں دیتے کہ آپ کیا کھانے لگے ہیں؟ پھر اس نے آپ کو بتا دیا کہ یہ سانڈے کا گوشت ہے۔ آپ نے اسے چھوڑ دیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا یہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں۔ لیکن یہ میری قوم کے علاقے (میرے وطن) میں نہیں پایا جاتا، اس لیے مجھے اس سے کچھ کراہت سی محسوس ہوتی ہے۔“ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے برتن اپنی طرف کھینچ لیا اور اسے کھا لیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے (کھاتے ہوئے) دیکھ رہے تھے۔ اور (یزید) ابن الاصم رحمہ اللہ نے (یہ روایت اپنی خالہ ام المومنین) حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے اس (ابن شہاب امام زہری رحمہ اللہ) کو بیان کی۔ اور وہ (ابن اصم) حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی پرورش میں تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4322]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا ابن عباس کے دونوں بیٹے عبداللہ اور فضل اور خالد بن الولید تین کی خالہ ہیں، عبداللہ بن عباس کی والدہ کا نام لبابۃ الکبری ام الفضل ہے، اور خالد کی والدہ کا نام لبابۃ الصغریٰ بنت حارث بن حزن الھلالی ہے، رضی اللہ عنھن۔ ۲؎: ام المؤمنین خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کی خالہ تھیں، ابن الاصم یہ یزید بن الاصم، عمرو بن عبید بن معاویہ ہیں اور یزید میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4322 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4322
اردو حاشہ:
(1) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کسی شخص کی بیوی کے رشتہ دار اس کے خاوند کی اجازت اور رضا مندی سے اس کے گھر آ جا سکتے ہیں جیسا کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی اور اجازت سے اپنی خالہ ام المومنین کے گھر تشریف لے گئے تھے۔
(2)اس حدیث مبارکہ سے یہ اہم مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی کام ہوتا دیکھ کر خاموش رہیں تو وہ کام شرعاً جائز اور حجت ہوتا ہے اور یہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ومرتبہ ہے۔ اسے محدثین کرام کی اصطلاح میں حدیث تقریری کہا جاتا ہے۔
(1) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کسی شخص کی بیوی کے رشتہ دار اس کے خاوند کی اجازت اور رضا مندی سے اس کے گھر آ جا سکتے ہیں جیسا کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی اور اجازت سے اپنی خالہ ام المومنین کے گھر تشریف لے گئے تھے۔
(2)اس حدیث مبارکہ سے یہ اہم مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی کام ہوتا دیکھ کر خاموش رہیں تو وہ کام شرعاً جائز اور حجت ہوتا ہے اور یہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ومرتبہ ہے۔ اسے محدثین کرام کی اصطلاح میں حدیث تقریری کہا جاتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4322]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4322 in Urdu
يزيد بن الأصم العامري ← ميمونة بنت الحارث الهلالية