🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. باب : تأويل قول الله عز وجل { ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه }
باب: آیت کریمہ: ”جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے مت کھاؤ“ (الأنعام: ۱۲۱) کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4442
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ أَبِي وَكِيعٍ وَهُوَ هَارُونُ بْنُ عَنْتَرَةَ , عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ سورة الأنعام آية 121، قَالَ:" خَاصَمَهُمُ الْمُشْرِكُونَ، فَقَالُوا: مَا ذَبَحَ اللَّهُ فَلَا تَأْكُلُوهُ، وَمَا ذَبَحْتُمْ أَنْتُمْ أَكَلْتُمُوهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما آیت کریمہ: «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم اللہ عليه» جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے مت کھاؤ (الأنعام: ۱۲۱) کے بارے میں کہتے ہیں: (یہ اس وقت اتری جب) کفار و مشرکین نے مسلمانوں سے بحث کی تو کہا: جسے اللہ ذبح کرتا ہے (یعنی مر جائے) تو اسے تم نہیں کھاتے ہو اور جسے تم خود ذبح کرتے ہو اسے کھاتے ہو؟۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4442]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6325) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عنترة بن عبد الرحمن الشيباني، أبو وكيع
Newعنترة بن عبد الرحمن الشيباني ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥هارون بن أبي وكيع الشيباني، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newهارون بن أبي وكيع الشيباني ← عنترة بن عبد الرحمن الشيباني
صدوق حسن الحديث
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← هارون بن أبي وكيع الشيباني
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← سفيان الثوري
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص
Newعمرو بن علي الفلاس ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4442 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4442
اردو حاشہ:
معلوم ہوا آیت کریمہ میں وہ جانور مراد ہے جو خود بخود مر گیا ہو اور اسے ذبح کرنے کا موقع نہ ملا ہو۔ اسی طرح جس جانور کو اللہ تعالیٰ کی بجائے کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، وہ بھی حرام ہے۔ اسی طرح جس جانور کو مشرک نے ذبح کیا ہو، وہ بھی حرام ہے، خواہ اللہ یا غیر اللہ کا نام لے یا نہ کیونکہ اس کا اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں، البتہ موحد شخص ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لینا بھول جائے تو متفقہ طور پر اس کا ذبیحہ حلال ہے کیونکہ نسیان عذر ہے۔ ہاں، اگر موحد جان بوجھ کر ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہ لے تو اکثر اہل علم کے نزدیک ذبیحہ حرام ہے کیونکہ اس آیت میں وہ جانور کھانے سے منع کیا گیا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو مگر امام شافعی اور بعض دوسرے علماء نے ایسے ذبیحے کو حلال کہا ہے کیونکہ اللہ کا نام مومن کے دل میں قائم رہتا ہے۔ زبان سے ذکر کرے یا نہ کرے۔ سنن ابو داود کی ایک مرسل روایت بھی اس مفہوم میں آتی ہے۔ ان کے نزدیک مندرجہ بالا آیت: ﴿مِمَّا لَمْ يُذْكَرْ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ﴾ سے مردار جانور ہے یا وہ جانور جسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ و اللہ أعلم۔ لیکن جمہور اہل علم کی بات راجح ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4442]